طرابلس میں الیکٹورل کمیشن کے دفاتر پر داعش کا خودکش حملہ ، 14 افراد ہلاک

متعدد مسلح حملہ آوروں نے الیکٹورل کمیشن کے صدر دفاتر پر دھاوا بولا تھا اور ان میں دو خود کش بمبار تھے،حکام

جمعرات مئی 12:42

طرابلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں الیکٹورل کمیشن کے صدر دفاتر پر دو خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لیبیا کے حکام نے بتایا کہ متعدد مسلح حملہ آوروں نے الیکٹورل کمیشن کے صدر دفاتر پر دھاوا بولا تھا اور ان میں دو خود کش بمبار تھے۔

ان کے دھماکوں کے بعد عمارت کو آگ لگ گئی۔اس حملے کے بعد مسلح جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔الیکٹورل کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ حملے میں مرنے والوں میں ادارے کے تین ملازمین اور اور مقامی سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

انھوں نے مزید بتایاکہ میں نے خود دو خودکش بمبار دیکھے تھے ۔ وہ اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔

دھماکے کے بعد دونوں بمباروں کے جسمانی اعضاء زمین پر ادھر ادھر بکھر گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک بمبار نے کمیشن کی عمارت کے اندر خود کو دھماکے سے اڑایا تھا اور دوسرے حملہ آوروں کو عمارت کو آگ لگادی۔اس وقت عملہ عمارت سے باہر ہے اور سکیورٹی اہلکار حملہ آوروں سے نمٹ رہے ہیں ۔۔سوشل میڈیا پر الیکٹورل کمیشن کے دفاتر پر حملے کے بعد کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں ۔ان میں طرابلس کے مغربی علاقے غوط الشعال میں واقع دفاتر کی عمارت سے سیاہ دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں ۔واضح رہے کہ لیبیا کا الیکٹورل کمیشن نئے عام انتخابات سے قبل ووٹروں کا اندراج کررہا ہے۔۔اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ اس سال کے اختتام تک یہ انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں ۔