الجزائر میں ایرانی انٹیلی جنس افسر بولیساریو فرنٹ سے رابطوں میںملوث

مراکش اور حزب اللہ کے درمیان تعلقات 2009سے کشیدہ،ابھی پھرکشیدگی میں اضافہ ہوگیا،رپورٹ

جمعرات مئی 13:13

رباط(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) مراکش اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز اٴْس وقت ہوا جب مراکش نے معزول شاہ ایران کا استقبال کیا اور پھر اس کے بعد عراق ایران جنگ میں بغداد حکومت کا ساتھ دیا۔ عدم اعتبار اور تاریخی عداوت کے سبب سفارتی تعلقات بحال ہو کر پھر سے منقطع ہوتے رہے۔دونوں ملکوں کے درمیان دوسری مرتبہ تعلقات اٴْس وقت منقطع ہوئے جب 2009ء میں ایرانی سفارت خانے کا ایک خفیہ منصوبے میں ملوث ہونا سامنے آیا۔

اس منصوبے کا مقصد مملکت مراکش میں شیعہ مسلک پھیلانا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق براعظم افریقہ میں مراکش کی معیشت کی توسیع سے حزب اللہ ملیشیا خوف زدہ ہو گئی اور کیوں کہ اس شیعہ ملیشیا کو پالنے والوں نے مغربی افریقہ میں ضخیم تجارتی اور مالیاتی سلطنتیں قائم کر لی تھیں۔

(جاری ہے)

مراکش کی جانب سے اس بھرپور تجارتی اور اقتصادی موجودگی نے حزب اللہ کو سپورٹ کرنے والے شیعہ تاجروں اور بیوپاریوں کو چیلنج کر دیا اور ان کو بھاری مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔

علاوہ ازیں مراکش نے براعظم میں ایران کے پھیلاؤ اور شیعہ مسلک پھیلانے کے ذریعے سنی مذہبی شناخت کی تبدیلی کی کوشش کا راستہ روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دیں۔ مراکشی ذرائع کے مطابق الجزائر میں ایرانی سفارت خانے کا ثقافتی اتاشی امیر موسوی حزب اللہ اور علیحدگی پسند بولیساریو فرنٹ کے بیچ رابطے کا ذریعہ تھا۔ بولیساریو فرنٹ الجزائر کے مغربی صحراء کے صوبے کی خود مختاری کا مطالبہ کرتا ہے۔

مذکورہ ذرائع کا کہنا تھاکہ موسوی دراصل ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک سینئر رکن اور ایرانی انٹیلی جنس کا ایک بڑا افسر ہے۔ 90ء کی دہائی کے آغاز سے ہی مشرق وسطی میں تمام سنی اور شیعہ شدت پسند جماعتوں اور ملیشیاؤں کے ساتھ اس کے تعلقات رہے ہیں۔ ماضی میں اس کا رابطہ القاعدہ اور افغان طالبان تحریک کی قیادت کے ساتھ بھی رہا ہے۔