سچاں کودر میں ڈاڈر ہسپتال کے ٹیکنیشن نے غلط ڈرپ چڑھانے کے باعث 21 سالہ لڑکی کی جان لے لی

جمعرات مئی 14:06

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سچاں کودر میں ڈاڈر ہسپتال کے ٹیکنیشن کی جانب سے غلط ڈرپ لگانے کے باعث 21 سالہ لڑکی موت کے منہ میں چلی گئی، ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارروائی صرف شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، دیہاتوں میں عطائی ڈاکٹر عوام کی جانوں سے کھیلنے میں ابھی بھی مصروف عمل ہیں، مسماة (ف) کو آبائی گائوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

لواحقین نے سچاں میں کلینک چلانے والے ٹیکنیشن ملازم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ اس سلسلہ میں سچاں گودر کی رہائشی سیاسی شخصیت چوہدری زرداد عرف زرداری نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کی بھانجی دست و قے میں مبتلا تھی جسے ہم فوری طور پر گائوں کے نجی ہسپتال لے کر آئے جہاں ڈاکٹر تو کوئی موجود نہیں تھا تاہم ڈاڈر ہسپتال کا ایک ٹیکنیشن جو ڈاکٹر بنا بیٹھا ہے، کلینک کے معاملات چلا رہا تھا۔

(جاری ہے)

عطائی ڈاکٹر نے بچی کو فوری طور پر ڈرپ چڑھا دی، چند ہی منٹ بعد بچی کی حالت خراب ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہماری نظروں کے سامنے دنیا سے چل بسی۔ انہوں نے بتایا کہ دیہات اور گائوں میں موجود نجی ہسپتال موٹ بانٹ رہے ہیں، ہیلتھ کیئر کمیشن شہروں میں تو کارروائیاں کر رہا ہے تاہم دیہات میں ان کی جانب سے نجی ہسپتالوں کے خلاف کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی اور یہ لوگ دیدہ دلیری سے لوگوں کی جانیں لینے میں مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نجی ہسپتال کو بند کرنے سمیت متعلقہ عطائی ڈاکٹر کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔