عراق، امیدواروں پر 40 ڈالر میں ووٹ خریدنے کا الزام

جمعرات مئی 14:07

بغداد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) عراق میں آئندہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حسب معمول دھاندلی اور دھوکہ دہی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ایک سرکردہ رکن محمد نوری العبد ربہ نے الزام عاید کیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں اور امیدوار شہریوں سے 50 ہزار دینار کے عوض ان کے ووٹ خرید رہے ہیں۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 40 ڈالر کے مساوی ہے۔

’السامریہ نیوز‘ چینل کی ویب سائیٹ سے بات کرتے ہوئے العبد ربہ نے کہا کہ بعض کرپٹ سیاسی جماعتیں اور امیدوار ووٹروں سے ان کا ووٹ خریدنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد امیدواروں اور سیاسی گروپوں کی طرف سے پچاس ہزار دینار کے عوض اپنا ووٹ فروخت کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔نینویٰ گورنری سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ انہیں ووٹوں کی خرید وفرخت کی اطلاعات پہلے بھی ملی تھیں مگراب ان کی باضابطہ تصدیق ہوچکی ہے۔

(جاری ہے)

امیدوار ووٹروں سے پچاس ہزار دینار کے عوض ووٹ انہیں دینے کا حلف رہے ہیں۔العبد ربہ کا کہنا تھا کہ امیدواروں کی جانب سے ووٹروں کی خریدو فروخت نے عراق کے انتخابی عمل کی شفافیت پر کئی طرح کے سوالات چھوڑ دیے ہیں۔خیال رہے کہ عراق میں 12 مئی کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ عراق کے الیکشن کمیشن کی شفافیت انتخابی باڈی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹوں کی خرید و فروخت یا بلیک میلنگ میں ملوث امیدواروں کے بارے میں متعلقہ حکام کو معلومات فراہم کریں۔