اقتصادی ایمر جنسی کی باتیں کرنیوالوں کو 2013 کی معاشی ابتری نہیں بھولنی چاہیے ،ْہارون اختر

،موجودہ حکومت کی اقتصادی کامیابیوں کو نظر انداز کرنا غفلت و عدم واقفیت کا آئینہ دار ہے ،ْوزیر اعظم کے معاون خصوصی کا بیان

جمعرات مئی 14:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے محصولات ہارون اختر نے کہا ہے کہ اقتصادی ایمر جنسی کی باتیں کرنیوالوں کو 2013 کی معاشی ابتری نہیں بھولنی چاہیے۔ جمعرا ت کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے محصولات ہارون اختر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی ایمر جنسی کی باتیں کرنے والوں کو 2013 کی معاشی ابتری نہیں بھولنی، چاہیے،2013 میں ملک کی اقتصادیات تباہی اور ابتری کا شکار تھی،اقتصادی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ 2013 میں قابل غور ہو سکتا تھا،موجودہ حکومت کی اقتصادی کامیابیوں کو نظر انداز کرنا غفلت و عدم واقفیت کا آئینہ دار ہے، 2013 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.68 فیصد تھی، 2018 میں جی ڈی پی کی شرح نم بڑھ کر 5.79 فیصد ہو گئی ہے، ہارون اختر نے کہا کہ2013میں ملکی معیشت کی شرح نمو 0.75 فیصد تھی جو اب 5.80 فیصد ہو گئی ہے، زراعت کے شعبے میں شرح نمو2.68 فیصد سے بڑھ کر 3.81فیصد ہو گئی، سروسز سیکٹر میں ترقی پانچ سال قبل 5.13 فیصد تھی، جو اب 6.43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا 2013 میں حکومت نے کسانوں کو 196 ارب روپے قرضے دیے تھے، امسال حکومت نے کسانوں کو 570 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے ، اگلے سال 1001ارب روپے زرعی قرضے دینے کا پروگرام ہے، ہارون اختر نے کہا غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 2013میں 11.85 ارب ڈالر تھے، اب بڑھ کر 16.91ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جون 2013 میں فی کس آمدنی 1333 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 1640ڈالر ہو گئی ہے۔ انہون نے کہا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 2013میں صرف 46.5 ارب روپے رکھے گئے تھے، حکومت نے اس پروگرام کے لیے 121 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

متعلقہ عنوان :