امریکہ،چین اور ریاض نے مسلح افواج پر گزشتہ برس1730 کھرب ڈالر خرچ کیے

یہ تخمینہ سرد جنگ کے بعد کے دور کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے،پہلے نمبر پر واشنگٹن،دوسرے پر بیجنگ اور تیسرے پر سعودی عرب رہا جبکہ روس چوتھے نمبر پر رہا،عالمی ادارہ برائے امن تحقیقات سِپری کی سالانہ رپورٹ

جمعرات مئی 14:56

سٹاک ہوم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سویڈن میں امن پر تحقیق کرنیوالے عالمی ادارے سِپری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں مختلف اقسام کے ہتھیاروں کے حصول اور مسلح افواج پر کل 1730 کھرب ڈالر خرچ کیے گئے،جو سرد جنگ کے بعد کے دور کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔سب سے زیادہ دفاعی بجٹ والے 3ممالک امریکا،،چین اور سعودی عرب تھے۔گزشتہ روز سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں قائم امن پر تحقیق کرنیوالے بین الاقوامی ادارے سِپری کی جانب سے جاری کردہ سالانہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں اسلحے کی خریداری اور مختلف ممالک کی مسلح افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کا رجحان اتنا زیادہ ہے کہ 2017ء میں عالمی سطح پر دفاعی شعبے میں اتنی زیادہ رقوم خرچ کی گئیں،جتنی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے آج تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں،گزشتہ برس عالمی سطح پر فوجی اخراجات کی مد میں 1.73 ٹریلین ڈالر یا 1.4 ٹریلین یورو سے زائد کی رقوم خرچ کی گئیں۔

(جاری ہے)

1730 کھرب ڈالر کے ان مالی وسائل میں سے سب سے زیادہ رقوم امریکا نے خرچ کیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا کے بعد انہی رقوم کی مالیت کے حوالے سے چین دوسرے اور سعودی عرب تیسرے نمبر پر تھا۔۔روس اس لسٹ میں چوتھے نمبر پر رہا۔ا سٹاک ہوم کے اس عالمی انسٹیٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں جتنے بھی مالی وسائل دفاع پر خرچ کیے گئے،ان کا ایک تہائی سے زائد حصہ اکیلے امریکا نے خرچ کیا،جو 610 ارب ڈالر بنتا ہے۔

اس کے علاوہ 2017ء میں عالمی دفاعی اخراجات کی مجموعی مالیت 2016ء کے مقابلے میں 1.1 فیصد زیادہ تھی۔اس کا مطلب یہ کہ یہ رقوم اتنی زیادہ تھیں کہ زمین پر کل انسانی آبادی کے لحاظ سے دفاع کے نام پر لیکن ہتھیاروں اور فوجوں پر جنگی مقاصد کے تحت فی انسان اوسطا 230 ڈالر خرچ کیے گئے۔عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہنے والے ملک چین نے پچھلے برس اپنی مسلح افواج پر 228 ارب ڈالر خرچ کیے،جو اس سے ایک سال پہلے کے چینی فوجی بجٹ کے مقابلے میں 12 ارب ڈالر زیادہ تھے۔

2017ء کی اس فہرست میں جرمنی اپنے عسکری اخراجات کے لحاظ سے نویں نمبر پر رہا،جس نے دفاعی شعبے میں کل 44.3 بلین ڈالر یا قریب 37 بلین یورو خرچ کیے۔انہی اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ چین 2008ء سے اب تک اپنے دفاعی بجٹ کو دگنا کر چکا ہے اور پچھلے برس بیجنگ کا فوجی بجٹ عالمی دفاعی اخراجات کے 13 فیصد کے برابر تھا۔۔سعودی عرب نے گزشتہ برس اپنے دفاع کیلئے 69.4 ارب ڈالر خرچ کیے اور اسی وجہ سے وہ اس عالمی فہرست میں روس کو ہٹا کر تیسرے نمبر پر آ گیا۔

سعودی عرب نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 10 فیصد دفاع پر خرچ کیا۔جنوبی ایشیا میں آبادی کے حوالے سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت نے پچھلے سال دفاعی شعبے میں قریب 64 ارب ڈالر خرچ کیے۔یہ رقوم اتنی زیادہ تھیں کہ اس وجہ سے بھارت فرانس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنے عسکری بجٹ کی رو سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا۔