منفی پالیسیاں اور انفراسٹرکچر کی کمی خیبر پختونخواہ کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں،ایف پی سی سی آئی

جمعرات مئی 15:12

منفی پالیسیاں اور انفراسٹرکچر کی کمی خیبر پختونخواہ کی ترقی میں بڑی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی(ایف پی سی سی آئی) کے صدرغضنفر بلورنے کہا ہے کہ دہشت گردی کے علاوہ منفی پالیسیاں اور انفراسٹرکچر کی کمی صوبہ خیبر پختونخواہ کی اقتصادی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ کئی اداروں کے ارباب اختیار کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کرتے رہتے ہیں جس سے سرمایہ کارمایوس ہو رہے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور نے یہ بات یو بی جی خیبر پختونخواہ کے گروپ لیڈر سینیٹر الیاس بلور کی قیادت میں آنے والے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ وفد میں صوبہ کے تمام چیمبروں کے نمائندے، بڑی تجارتی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ غضنفر بلور نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ٹیکسوں اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں اضافہ اور دیگر اقدامات کر رہے ہیں جس سے دونوں طرف کی کاروباری برادری کے مسائل اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

بینک صوبہ سے اربوں روپے کے ڈیپازٹ تو لے رہے ہیں مگر قرض دینا تو درکنار اکائونٹ کھولنے کے لئے بھی آسانی سے تیار نہیں ہوتے جس کا نوٹس لیا جائے اورملک بھر میں کولیٹرل اور بینک اکائونٹ کھولنے کی یکساں شرائط لاگو کی جائیں۔ اس موقع پر حاجی افضل اور وفد کے دیگر ممبران نے کہا کہ صوبہ سے سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا جا رہا ہے۔ صوبہ گیس کی پیداوار میں خود کفیل ہے اور سرپلس گیس دوسرے صوبوں کو دی جا رہی ہے مگر پھر بھی آر ایل این جی کے ٹیکس اور سرچارج وصول کئے جا رہے ہیںجو آئین کی خلاف ورزی ہے۔

صوبہ کی صنعتوں سے آٹھ دس سال کے جی آئی ڈی سی کے بقایا جات وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا حجم بعض صنعتوں کی کل قیمت سے زیادہ ہے اسلئے اسکی ادائیگی ناممکن ہے۔ اگر اس فیصلے پر نظر الثانی نہ کی گئی تو صنعتیں بند اور بے روزگاری کے مسائل جنم لینگے۔ برامدکنندگان کے ریفنڈ عرصہ دراز سے پھنسے ہوئے ہیں جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اس لئے انکی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

اجلاس کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ صوبہ کے تمام چیمبر اور تجارتی تنظیمیں ایف پی سی سی آئی کے الیکشن میں باہمی مشاورت سے صرف ایک امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کریں گی جبکہ مختلف چیمبروں کو درپیش مسائل، پلاٹوں کی فراہمی، عمارتوں کی فراہمی اور دیگر مسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے۔