گوانتانامو بے میں زیر حراست سعودی شہری کی مملکت واپسی

احمد الدربی کی رہائی مملکت کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو بیرون ملک قید یوں کی وطن واپسی کے لیے جاری ہیں،حکام

جمعرات مئی 15:20

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) ایک سعودی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ 2002ء میں فرانسیسی تیل بردار جہاز پر حملے کی منصوبہ بندی میں سہولت کار کا کردار ادار کرنے والے سعودی شہری احمد بن محمد بن احمد الدربی کو جمعرات کے روز گوانتانامو بے کے امریکی حراستی مرکز سے رہا کر دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ریاستی سلامتی کے ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ احمد الدربی کی رہائی مملکت کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو بیرون ملک قید سعودی شہریوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں۔

احمد بن محمد بن احمد الدربی بدھ کے روز دن بارہ بجے مملکت پہنچا جہاں اس کے اہل خانہ کو رہائی سے متعلق پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا اور مملکت نے انہیں احمد الدربی سے ملاقات کے لئے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کیں۔

(جاری ہے)

ترجمان نے واضح کیا کہ رہائی پانے والے الدربی سے ملکی قوانین کے تحت سلوک کیا جائے گا جس کے تحت انھیں شہزادہ محمد نائف کاوسنلنگ اور کیئر مرکز کی سہولیات سے استفادہ کا موقع دیا جائے گا۔

امریکی محکمہ دفاع نے ایک اعلامیے میں بتایا کہ الدربی کو گوانتانامو بے حراستی مرکز سے مملکت منتقل کیا گیا ہے۔ یاد رہے محمد الدربی نے فروری 2014 میں اعتراف جرم کیا تھا جس میں انھوں نے فرانسیسی جہاز ایم وی لمبرگ پر حملے کی منصوبہ بندی اور حملے میں معاونت کاری کا اعتراف کیا تھا۔ اس حملے میں بلغاریہ سے تعلق رکھنے والا ایک سیلر ہلاک جبکہ کئی درجن زخمی ہو گئے تھے۔

نیز حملے کے نتیجے میں خلیج عدن کے علاقے میں تیل رسنے سے سمندری پانی آلودہ ہوا۔الدربی نے اعتراف جرم کے بعد گوانتانامو بے ہی میں زیر حراست ایک دوسرے سعودی شہری عبدالرحیم النشیری کے خلاف دستاویزی ثبوت دیئے۔ النشیری فرانسیسی جہاز ایم وی لمبرگ اور سنہ 2000 میں امریکی لڑاکا بحری جہاز یو ایس ایس کول پر یمن میں حملے کی پاداش میں سزائے موت کے مقدمہ کا سامنا کر رہا تھا۔ یو ایس ایس کول پر حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔