الحرمین الشریفین میں استقبال رمضان کی تیاریاں عروج پر،تمام وسائل دستیاب

دس ہزار مرد وخواتین کارکن مقامات مقدسہ کی دیکھ بھال اور روزمرہ کے امور کی انجام دہی کے لئے ہمہ وقت موجود ہوں گے،پریزیڈنسی

جمعرات مئی 15:20

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) الحرمین الشریفین کے انتظامی ادارے کی پریزیڈنسی نے بتایا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں استقبال رمضان کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رمضان المبارک کے دوران الحرمین الشریفین میں دس ہزار مرد وخواتین کارکن مقامات مقدسہ کی دیکھ بھال اور روزمرہ کے امور کی انجام دہی کے لئے ہمہ وقت موجود ہوں گے۔

صفائی ستھرائی کے لئے بڑی تعداد میں خدام المساجد بھی رمضان المبارک میں اپنے فرائض پہلے سے زیادہ سرعت اور ذمہ داری سے ادا کریں گے۔الحرمین الشریفین پریزیڈنسی کے صدر نشین شیخ عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے بتایا ہے کہ منصوبہ پر مختلف علاقوں میں مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

انتظامی رہنمائی، تعلیم،، فنی ومالیاتی امور اور تعلقات عامہ چند ایسے شعبہ جات ہیں جن پر رمضان المبارک کے دوران متعین عملہ خصوصی توجہ دے گا۔

منصوبے پر عمل درآمد کے لئے رفتار کار میں بہتری اور انسانی وسائل کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔۔مسجد الحرام میں 28 برقی زینے چوبیس گھنٹے کام کریں گے۔ ایسی ہی چار سہولیات مسجد نبوی میں فراہم کی گئی ہیں۔ معذور افراد کی مساجد میں بسہولت رسائی کے لئے 38 داخلی راستے مختص کئے گئے ہیں۔ دیگر سہولیات کے ساتھ خواتین کی الحرمین الشریفین تک رسائی کے لئے سات خصوصی داخلی راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پریزیڈنسی کے توسط سے فراہم کردہ خدمات میں ورکشاپس کا انعقاد، تقسیم مصحف، مذہبی کتابچے اور خطبہ جمعہ کا متعدد زبانوں میں ترجمہ شامل ہے۔ نیز ضیوف الرحمان کی رہنمائی کے لئے لگائے گئے بورڈز پر بھی مختلف زبانوں میں ہدایات کے اندراج کو یقینی بنایا جائے گا۔مقامات مقدسہ میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔الحرمین الشریفین کی پریزیڈنسی کی جانب سے اس سال طے کئے جانے والے اہداف میں یہ امر سرفہرست ہے کہ مقامات مقدسہ مناسک حج اور عمرہ کے لئے آنے والے زائرین کو دینی شعائر کی ادائی میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لئے ضیوف الرحمان کی زیادہ سے زیادہ رہنمائی اور ضروری سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔