ویٹی کن کی اعلیٰ شخصیت پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات،ملزم کا انکار

عدالت نے سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی جہاں ان الزامات کے ٹرائل اور اس کی تاریخ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا

جمعرات مئی 15:20

میلبرن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) رومن کیتھولک چرچ کے مالی امور کے سربراہ اور پوپ فرانسس کے اعلیٰ ترین معاون کارڈِنل جارج پیل کو تاریخی جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں ٹرائل کا امکان ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق 76 سالہ کارڈِ نل جارج پیل کو آسٹریلیا کے شہر میلبرن کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کے الزامات سے متعلق سماعت ہوئی۔

میلبرن عدالت کے جج نے ہدایت جاری کی کہ ویٹی کن میں مالی امور کے چیف کو جنسی ہراساں کرنے کے مختلف الزامات میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا، جس کے بعد وہ ان الزمات کا سامنا کرنے والے اعلیٰ ترین رومن کیتھولک پیشوا بن گئے۔کارڈِنل جارج پیل نے صحت جرم سے انکار کردیا جبکہ ان پر ابتدائی طور لگائے گئے الزامات میں سے تقریباً آدھے الزامات کو خارج کردیا گیا۔

(جاری ہے)

رومن کیتھولک پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ مذہبی پیشوا پر لگائے گئے الزامات 1970 کی دہائی سے 1990 کی دہائی کے درمیان ہونے والے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات سے متعلق ہیں۔تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک الزام 1970 کی دہائی میں آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے ایک قصبے کے سوئمنگ پول میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے، اور یہ وہ دور تھا جب کارڈِنل جارج پیل وہاں مذہبی پیشوا تھے۔

جنسی طور پر ہراساں کرنے کا دوسرا الزام 1990 کی دہائی میں ہونے والے ایک واقعے سے متعلق ہے، جب وہ میلبرن کے سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل میں اپنی ذمہ داری نبھاتے تھے۔وکٹوریہ کاؤنٹی کورٹ میں سماعت کے دوران کارڈِنل جارج پیل کے وکیل روبرٹ رچٹر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات سے متعلق مقدمات ہیں اور انہیں 20 سال سے زائد کا عرصہ بھی گزر چکا ہے اس لیے ان کا علیحدہ علیحدہ ٹرائل ہونا چاہیے۔۔عدالت نے سماعت 16 مئی تک کے لیے ملتوی کردی جہاں ان الزامات کے ٹرائل اور اس کی تاریخ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔مذببی پیشوا جب عدالت میں داخل ہورہے تھے تو پولیس نے انہیں اپنے حصار میں لے لیا تھا۔

متعلقہ عنوان :