پبلک اکائونٹس کمیٹی ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کیخلاف ماتحت عدالتوں سے حکم امتناعی ختم کرانے کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھے گی، چیئرمین سید خورشید شاہ

ریاست اور ادارے کمزور، افراد طاقتور ہو جائیں تو یہ بڑی خطرناک صورتحال ہے، اربوں روپے کی وصولی رکوانے کے لئے دس لاکھ کا وکیل کرکے حکم امتناعی لے لیا جاتا ہے، عدالتوں کو بھی حکم امتناعی دیتے وقت سوچنا چاہیے، چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی حبیب کنسٹرکشن کمپنی نے 2014ء سے ایک ارب 30 کروڑ کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا اور لاہور ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے، چیئر مین ایف بی آر

جمعرات مئی 15:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ((ایف بی آر)) کے اربوں روپے کے ٹیکسوں کے عدالتوں میں زیر التواء مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر استدعا کرے گی کہ ماتحت عدالتوں کو یہ مقدمات نمٹانے کی جلد از جلد ہدایت کی جائے جبکہ پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ریاست اور ادارے کمزور ہو جائیں اور افراد طاقتور ہو جائیں تو یہ بڑی خطرناک صورتحال ہے‘ عدالتیں بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں‘ عدالتوں کوڑ حکم امتناعی دیتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے ملک کا نقصان ہوگا۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان راجہ جاوید اخلاص‘ سردار عاشق حسین گوپانگ‘ شاہدہ اختر علی‘ صاحبزادہ نذیر سلطان‘ سید نوید قمر‘ ڈاکٹر عذرا فضل اور اعظم سواتی سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایف بی آر کے 2015-16ء اور 2016-17ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا کہ میسرز حبیب کنسٹرکشن کمپنی نے 2014ء سے ایک ارب 30 کروڑ کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے پی اے سی کو بتایا کہ اس کمپنی نے لاہور ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ایک اچھی لیگل ٹیم کے ساتھ عدالت میں اس کیس کی پیروی کی جائے۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ایل سی سمیت مختلف کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذمے انکم ٹیکس بقایا جات ہیں۔ پی اے سی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے‘ دو سال سے اس معاملے میں کوئی پیشرفت کیوں نہیں ہوئی۔ ایف بی آر کے حکام نے کہا کہ این ایل سی سے مختلف منصوبوں کی کی مد میں جمع کرائے گئے ٹیکسز کی تفصیلات ہم نے طلب کی ہیں۔

این ایل سی نے حبیب کنسٹرکشن سے 245 ملین ٹیکس کی کٹوتی کی مگر کوئی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔ ہم نے این ایل سی کو دو نوٹس دیئے مگر جواب نہیں آیا۔ ایف بی آر نے کہا کہ این ایل سی کو تیسرا اور آخری نوٹس بھی دیا گیا ہے، معلوم نہیں کیوں تین نوٹسز کا جواب نہیں دیا گیا ورنہ عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایف بی آر کے 55 ارب روپے سے زائد کے بقایا جات ہیں ۔

ایف بی آر نے کہا کہ کیسز عدالتوں میں ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ آپ اپنی کھال بچانے کے لئے عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ ہم بھی پھر یہ پیرے التواء میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ریاست اور ادارے کمزور اور افراد طاقتور ہو جائیں تو یہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں‘ حکم امتناعی دینے سے فرد واحد کا نہیں ملک کا نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی وصولی رکوانے کے لئے دس لاکھ کا وکیل کرکے حکم امتناعی لے لیا جاتا ہے۔ عدالتوں کو بھی حکم امتناعی دیتے وقت دیکھنا چاہیے کہ ملک کا پیسہ ہے جس سے سب کو تنخواہیں ملتی ہیں۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی ایف بی آر کے عدالتی مقدمات کی تفصیلات حاصل کرکے چیف جسٹس کو خط لکھے گی اور درخواست کریں گے کہ ماتحت عدالتوں سے جلد فیصلے کروائے جائیں۔

یہ بڑی رقم ہے جو سرکار کی پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے 58 آڈٹ اعتراضات میں سے صرف پانچ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ہر پیرے میں یہی آتا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس معاملے پر ایکشن لیا ہے جس پر سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اچھی بات ہے۔ ہر پاکستانی کو یہ کوشش کرنی چاہیے۔ پی اے سی چیف جسٹس کو خط لکھ کر اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرے گی۔ ہمیں توقع ہے کہ پی اے سی کے خط کے بعد چیف جسٹس پورا کچرا صاف کردیں گے۔ اگر ایک دن ایف بی آر کہہ دے کہ وصولیوں کے لئے وسائل موجود نہیں ہیں تو پارلیمنٹ ایف بی آر کی مدد کرے گی۔