ایمنسٹی سکیم پر اپنا ایوارڈ اور اسمبلی رکنیت سے استعفی دینے کا اعلان جوش خطابت میں کیا تھا جو درست نہیں تھا، تنقید برائے تنقید کی بجائے ارکان اسمبلی کو تجاویز دینی چاہئیں

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور کا بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 15:40

اسلام آباد۔ 03 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور نے کہا ہے کہ تنقید برائے تنقید کی بجائے ارکان اسمبلی کو تجاویز دینی چاہئیں‘ یہ بات درست نہیں کہ اگر کوئی دوسری جماعت بجٹ پیش کرتی تو دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی جاتیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے خواجہ سہیل منصور نے کہا کہ بجٹ میں 2100 ارب روپے کا خسارہ ہے یہ کیسے پورا ہوگا۔

یہ ایک سوال ہے۔ ہم 14 سال سے اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تاہم اب اس کو تنقید برائے تنقید کی بجائے اس میں تجاویز بھی دینی چاہئیں۔ اگر کوئی دوسری جماعت یہ بجٹ پیش کرتی تو دودھ اور شہد کی نہریں ہونے والا تاثر درست نہیں ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کیا تو اس کے لئے وسائل کا اہتمام کرنا بھی ان کے پیش نظر ہوگا۔

(جاری ہے)

غیر منتخب شخص کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

70 سال سے ٹانگیں کھینچنے کی باتیں عام ہیں۔ ایمنسٹی سکیم پر میں اپنا ایوارڈ اور اسمبلی رکنیت سے استعفی دینے کا اعلان جوش خطابت میں کر چکا تھا جو درست نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم پر ایک بار نظرثانی کی جائے۔ برآمدات کے فروغ کے لئے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ناگزیر ہوتا ہے اس میں مصنوعی رکاوٹ درست نہیں ہے۔ بجٹ میں غریب کا خیال نہیں رکھا گیا۔

تعلیم و صحت کے لئے جتنا اضافہ کیا گیا وہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں اتنی ہونی چاہئیں تاکہ ملازم کرپشن کی طرف نہ جائیں۔ حکومت ملازمتیں بھی نہیں دے سکتی۔ یہ نجی شعبہ کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی بہتری سے صنت بہتر ہوئی ہے ‘ صنعتی اراضی 15 سے 20 کروڑ روپے فی ایکڑ تک چلی گئی ہے۔ اتنے میں پنجاب میں ایک صنعت لگ سکتی ہے۔

ان ایشوز پر توجہ دی جائے۔ کے الیکٹرک کا معاملہ چل رہا ہے ۔ کراچی میں ایل این جی کے لئے کہا جارہا ہے کہ دو سال بعد دی جائے گی۔ ٹیکس نیٹ میں لوگوں کو لانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ 1800 سی سی سے اوپر کی گاڑیاں جس کے پاس ہیں اس کو نیٹ میں لایا جاسکتا ہے۔ پالیسیوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو بہتری نہیں آئے گی۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر ہونا چاہیے۔ زراعت ہماری معیشت کا بڑا شعبہ ہے۔ وہ ٹیکس دیتا ہے تاہم اس کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔