وزیر خزانہ کی تقریر سے غریب کا پیٹ بھر گیا ،ْ

بجٹ کے بعد اب غریب آدمی کو کھانا کھانے کی ضرورت نہیں ،ْ خورشید

جمعرات مئی 16:00

وزیر خزانہ کی تقریر سے غریب کا پیٹ بھر گیا ،ْ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ 70 سال کی تاریخ میں پارلیمنٹ کا ایسا حال نہیں دیکھا۔۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر خزانہ کی تقریر سے غریب کا پیٹ بھر گیا ،ْ بجٹ کے بعد اب غریب آدمی کو کھانا کھانے کی ضرورت نہیں، حکومت نے غریب عوام پر ٹیکس کی بھرمار کردی ہے ،ْسستی روٹی اچھا منصوبہ تھا ،ْالیکشن جیتنے کے بعد کیوں بند کردیا۔

انہوں نے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی میں 300 فیصد تک اضافے کی تجویز ہے اس سے امیروں کی بجائے غریبوں پر اثر پڑیگا۔ موٹر سائیکل اور ویگنوں میں سفر کرنے والوں کی شرح 97 فیصد ہے۔ ہمیں غریب آدمی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 30 لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں آسکتے ہیں مگر ہماری آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔

حکومت نے خود بھی ٹیکس ایمنسٹی سکیم دی۔ ہمیں بنگلہ دیش کی مثال سامنے رکھنی چاہیے۔ ہم کہتے تھے ان کے پاس کچھ نہیں ہے آج وہ کہاں پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں تقسیم ہونے کی بجائے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے نکتہ پر متحد ہونا پڑے گا۔ بنگلہ دیش کی آبادی 17 کروڑ ہے اور ان کے 27 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ہماری آبادی 21 کروڑ ہے اور صرف ساڑھے سات لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔

ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہمیں دوڑنا پڑے گا تب ہم ان کے برابر پہنچ سکتے ہیں۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ مل کر مشاورت سے فیصلہ کریں گے تو حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ملکی ترقی کا ایجنڈا طے کرنا چاہیے۔ ایک سال لگے گا تو حالات ٹھیک ہوں گے ،ْجب تک پارلیمنٹ ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملک کے حقیقی مسائل نہیں اٹھائے گی حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست گندی چیز نہیں ہے وہ لوگ گندے ہیں جو سیاست کو گندا کرتے ہیں۔ قائداعظم اور ذوالفقار علی بھٹو بھی سیاست دان تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2015-16ء میں سگریٹ پر ٹیکس 114 ارب تھا‘ 2017-18ء میں 79 ارب کیا جارہا ہے کہ اس شعبے سے 92 ارب حاصل ہوں گے اب بھی 2015ء کے مقابلے میں ریونیو میں 22 ارب روپے کا شارٹ فال ہوگا اس کا ذمہ دار کون ہے۔ پارلیمنٹ کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیے اور ایف بی آر سے باز پرس کرنی چاہیے۔

ملک کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہر سال دس لاکھ بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس حوالے سے بھی کوئی پالیسی نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جب تک ملک سے امیر اور غریب کا فرق نہیں مٹے گا ملک حقیقی ایٹمی قوت نہیں کہلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی درآمدات اور برآمدات میں اب بھی 30 ارب ڈالر کا فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ کیا تھا مگر اب بھی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے منشور کے مطابق سرکاری اداروں میں ہونے والے 400 ارب کے نقصانات کا ازالہ نہیں کر سکی‘ یہ بڑھ کر 1200 ارب تک پہنچ گئے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت ملک میں 17 ارب ڈالر ہیں۔ جن میں سے 11 ارب سٹیٹ بنک اور چھ ارب ڈالر بنکوں کے ہیں۔

بیت المال کے بجٹ میں بھی 6 ارب سے 1 ارب روپے کمی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے بجٹ پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے۔ ہمیں عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے پالیسیاں دینی ہوںگی۔ پارلیمنٹ ہی پاکستان اور وفاق پاکستان کو مستحکم بنا سکتی ہے۔ ہر ادارے کو ایک دوسرے کا احترام یقینی بنانا ہوگا۔اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ الیکشن میں جائیں گے تو ایک دوسرے کو ایسی سنائیں گے، توبہ نعوذ بااللہ، کبھی تو ہمیں بیٹھنا پڑیگا ،ْ اسپیکر ان سب مسائل کو دیکھیں۔

انہوں نے کہا کہ آج اراکین کی حاضری دیکھ کر پارلیمنٹ کی بالادستی نظر آرہی ہے ،ْ70سال کی تاریخ میں پارلیمنٹ کا ایسا حال نہیں دیکھا۔۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ سیاست گندی نہیں، گندے لوگ سیاست کو گندا کرتے ہیں، بعض لوگوں نے سیاست اور سیاست دان کو گندا کردیا ہے، اب بچے اور بیوی بھی کہتے ہیں کہ سیاست گندا کام ہے چھوڑ دیں۔ بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ وزیراعظم اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ہمیشہ ترقی پر مبنی پالیسیاں دیں۔

انہوں نے مختلف ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی اقتصادی پالیسیاں ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف رہی ہیں۔ ہم نے فنانس کمیٹی میں اسد عمر سمیت دیگر ارکان سے بات کی ہے کہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے ہمیں مل کر اتفاق رائے سے طویل مدت پالیسی بنانی چاہیے۔ چین نے گزشتہ 30 سالوں میں بے مثال اقتصادی ترقی کی ہے اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 0.4 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس صرف نان فائلرز پر لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ٹیکس گزاروں کی شرح میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 12 لاکھ تک کی آمدنی کے لئے ٹیکس کی شرح برائے نام رکھ کر تاریخی کام کیا ہے یہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبہ پر زیادہ سے زیادہ ترجیح دینی چاہیے تاہم میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبوں سے غریب آدمی کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

طلباء اور مزدوروں کو اچھی سفری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ میٹرو منصوبے سے طلباء کو فائدہ پہنچا ہے۔ طلباء اور مزدوروں کو اچھی سفری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ میٹرو منصوبے سے طلباء کو فائدہ پہنچا ہے۔ کھیتوں سے منڈیوں تک اجناس پہنچانے کے لئے سڑکوں کی تعمیر سے کاشتکاروں کی جسمانی مشقت میں کمی آئی ہے۔ ان سڑکوں کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں بھی آسانی رہے گی اس لئے ان منصوبوں کا صحت اور تعلیم کے شعبوں پر بھی براہ راست اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران زرعی معیشت میں تین فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ زرعی قرضوں پر شرح سود میں کمی کی جائے۔ انہوں نے نجی شعبے کے بنکوں سے قرضوں کے حصول کی شرح میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معیشت میں بہتری آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں سے اگر بڑے بڑے پلانٹس لگائے جائیں اور صنعتیں قائم کی جائیں تو یہ قرضے نقصان نہیں دیتے۔اقتصادی پالیسیاں پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کی مشاورت سے بنانی چاہئیں۔ موجودہ حکومت نے کراچی لیاری ایکسپریس وے بنا کر کراچی کے شہریوں کی سفری سہولیات میں آسانی پیدا کی ہے۔ نئے اسلام آباد ایئرپورٹ کا افتتاح ہو چکا ہے۔ یہ وہ منصوبے ہیں جن پر کام رکا ہوا تھا۔

اس کا تمام تر کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔ ہماری حکومت نے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے جس سے لوڈشیڈنگ پر کافی حد تک قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے۔ وہاں پر امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے جس کا اعتراف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دی جائیں۔ تاجروں پر 6 فیصد فکس ٹیکس عائد کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ڈیم بنانے پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔ بجلی سستی پیدا ہوگی تو سب کا فائدہ ہوگا۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم کو فروغ دیں یہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔