زرعی شعبے کو ترقی دیئے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے‘

زرعی قرضے کم شرح سود پر دیئے جائیں، نوجوانوں کو میرٹ پر نوکریاں ملنی چاہئیں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 16:31

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے جی ڈی پی شرح سمیت بجٹ اعداد و شمار کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی سمت درست نہیں ہے‘ زرعی شعبے کو ترقی دیئے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے‘ کاشتکاروں کو زرعی قرضے کم شرح سود پر دیئے جائیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسد عمر نے کہا کہ جہاں سے ہم نے سفر کا آغاز کیا تھا اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔

پاکستان سٹیل ملز اور پی آئی اے سمیت قومی اداروں کے 1200 ارب روپے کے قرضوں کی واپسی کے لئے بجٹ میں اقدامات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ گردشی قرضے ایک مرتبہ پھر 500 ارب روپے سے زیادہ ہو چکے ہیں، ان قرضوں کی واپسی کا بھی بجٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

(جاری ہے)

400 ارب روپے کے ریفنڈ کیسز روکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اس وقت مشکلات کا شکار ہے ٹیکس کا نظام استحصالی اور طبقاتی ہے، اس سے امیر امیر تر اور غریب اور متوسط طبقات متاثر رہے ہیں۔

ڈائریکٹ ٹیکسوں کی شرح میں کمی آرہی ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح ساڑھے دس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ پٹرولیم لیوی میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو میرٹ پر نوکریاں ملنی چاہئیں۔ پالیسیاں اشرافیہ کے لئے نہیں ملک کے عام لوگوں کے لئے بننی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بہتری لائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

کاشتکاروں کے لئے زرعی قرضوں کی شرح میں کمی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کے بند پڑے بنیادی مراکز صحت کو فعال کیا جائے۔ اسلام آباد میں ایک نیا بڑا ہسپتال بنایا جائے۔ ڈیلی ویجز پر بھرتی خواتین اساتذہ کا مسئلہ حل کیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی دور کی جائے۔ اسلام آباد شہر کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے اس بجٹ میں رقم مختص کی جائے۔