فیملی سپورٹ پروگرام کے ذریعے سکول نہ جانے والے بچوں کو معاشرے کا سود مند شہری بنایا جا سکتا ہے، رپورٹ وزارت انسانی حقوق

غیر رسمی تعلیمی مراکز قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور نیشنل ووکیشنل و ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی خدمات بھی سکول نہ جانے والے بچوں کے لئے اہم ہو سکتی ہے

جمعرات مئی 16:31

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک فیملی سپورٹ پروگرام کے ذریعے سکول نہ جانے والے بچوں کو معاشرے کا سود مند شہری بنایا جا سکتا ہے،غیر رسمی تعلیمی مراکز قومی کمیشن برائے انسانی حقوق(این سی ایچ ڈی) اور نیشنل ووکیشنل و ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے تعاون سے فنی خدمات کی پیشکش بھی ان بچوں کے لئے اہم اقدام ثابت ہو سکتی ہیں۔

وزارت انسانی حقوق کی جانب سے اسلام آباد کی کچی آبادیوں اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے بارے میں جاری کی گئی دو الگ الگ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ معاشی مشکلات اور عدم دلچسپی کی وجہ سے بچوں کو ایسے مسائل کا سامنے ہے، پہلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں 1500گھروں کا سروے کیا گیا جس میں مشاہدے میں آیا کہ 1022گھروں میں 5سی16سال کی عمر کے 2174بچے ہیںان میں سے 70فیصد سے زائد بچے کبھی سکول میں درج نہیں ہوئے،ان میں سے 29.9فیصد بچے سکول میں داخل ہوئے تاہم ان میں 87 فیصد مختلف وجوہات کی بنا پرسکول چھوڑ گئے،دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 732گھروں میں 1261بچوں کی نشاندہی ہوئی جو سکول نہیں جاتے، ان میں 314ہمک، 380سوہان، 194علی پور فراش،نون سے 373 بچے سکول سے باہر ہیں، ان میں 85.6فیصد کبھی سکول میں انرول نہیں ہوئے 14.4 فی صد ڈراپ ہوئے اور 1261بچے سکول نہیں گئے، اس مطالعاتی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں کی اکثریت ہمک، نون اور سوہان جبکہ بچیوں کی اکثریت علی پور فراش اور اس سے ملحقہ علاقوں سے ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بچوں کے سکول نہ جانے کی وجوہات میں مالی مسائل، ہجرت، ملازمتوں کی عدم دستیابی، بچوں کی معذوری، والدین کی عدم توجہ اور تعلیمی حقوق اور سہولیات کے بارے میں آگاہی نہ ہونا شامل ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکولوں سے بچوں کے ڈراپ آوٹ کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کا سخت رویہ اور کلاس روم میں عدم دلچسپی بھی ہے، سٹڈی میں تجویز کیا گیا ہے کہ اساتذہ اور کمیونٹی لیڈرز کے تربیتی سیشن بچوں اور ان کے والدین کو تعلیم کی ان کی زندگیوں میں اہمیت کے بارے میں راہنمائی فراہم کرنے کے لئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت انسانی حقوق، وزارت کیڈ کا سماجی بہبود کا محکمہ، نیشنل چائلڈ پروٹیکشن سنٹر، این سی ایچ ڈی، اور وفاقی نظامت تعلیمات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو کہ سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کے لئے قومی لائحہ عمل بنائے اور جس پر عملدرآمد سے ان بچوں کو سکولوں میں لا کر قومی دھارے میں لایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :