صوبہ سندھ ملک میں کرپشن کی وجہ سے پہچانا جارہا ہے‘

ملازمتیں بیچی جارہی ہیں‘ گنے کے کاشتکاروں کو ان کی فصل کے پیسے نہیں ملے اور اب گندم کے باردانہ میں بھی کمیشن لیا جارہا ہے‘ لاڑکانہ پیکج کے 80 ارب روپے کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند ملہی کا بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 16:34

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند ملہی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ ملک میں کرپشن کی وجہ سے پہچانا جارہا ہے‘ ملازمتیں بیچی جارہی ہیں‘ گنے کے کاشتکاروں کو ان کی فصل کے پیسے نہیں ملے اور اب گندم کے باردانہ میں بھی کمیشن لیا جارہا ہے‘ لاڑکانہ پیکج کے 80 ارب روپے کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن لال چند نے کہا کہ یہ بجٹ ایک مقروض قوم کا بجٹ ہے، این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔ پنجاب کے مقابلے میں دیگر صوبوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں معاشی‘ تعلیمی‘ صحت‘ امن و امان‘ اقلیتیں‘ زراعت تباہ ہو چکی ہے۔۔سندھ میں ہاریوں اور مزدوروں سے جو سلوک ہو رہا ہے وہ کہیں نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

گنے کے کاشتکاروں کو پیسے نہیں ملتے۔ سندھ میں شوگر ملز حکومتی لوگوں کی ہیں۔ باردانہ کمیشن کے لئے بیچی جارہی ہیں۔ پانی کی کمی ہے‘ سندھ حکومت اس پر خاموش ہے۔ عمرکوٹ کے ایم این اے سے سندھ حکومت کی نہیں بنتی اس لئے ان کے حلقے میں پانی نہیں دیا جاتا۔ کرپشن کا سندھ میں راج ہے۔ سندھ کو اب کرپٹ صوبہ گردانا جاتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے سیکرٹری سے کروڑوں روپے نکلے۔

ملازمتیں بک رہی ہیں۔ سندھ حکومت میرٹ پر آفیسروں کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہے۔ بیروزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سکولوں کو جانوروں کے باڑے بنا دیا گیا۔ اساتذہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ان کے ساتھ نہ دینے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ ہسپتالوں میں عورتیں بچوں کو باہر جنم دیتی ہیں۔ تھر کے لوگوں کے لئے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے۔ سندھ میں دس سال میں ایک اچھا ہسپتال نہیں بن سکا۔ عمر کوٹ‘ تھرپارکر کے لوگوں کو گیس نہیں دی جارہی۔