ترکی کے عوام اور حکومت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی ہر بین الاقوامی فورمز پر بھر پور حمایت کی ہے،

صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان

جمعرات مئی 17:49

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان کہا ہے کہ ترکی کے عوام اور حکومت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی ہر بین الاقوامی فورمز پر بھر پور حمایت کی ہے۔ صدر آزادجموں وکشمیر نے ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل یونین آف این جی اوز آف اسلامک ورلڈ (UNIW)علی کرت کی سربراہی میں ملنے والے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ملاقات میں عبدالحمید ارتن کوآرڈینیٹر UNIW، ممبر قانون ساز اسمبلی عبد الرشید ترابی ، کنونیئر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی و فیض احمد نقشبندی بھی شامل تھے۔ صدر آزادجموں وکشمیر نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین ہمیشہ گہرے اور مضبوط سفارتی تعلقات رہے ہیں جو دونوں ملکوں کے لوگوں کی باہمی اخوت، محبت اور بھائی چارے کی عکاسی کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ یہ تاریخی روابط دونوں ملکوں کے مابین مضبوط معاشی، سیاسی اور سٹرٹیجک تعلقات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان ایک جذباتی لگائو موجود ہے۔ صدر مسعود خان نے ترکی کے عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے اس مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھا اور اسے بین الاقوامی حل طلب قضیہ ثابت کرنے کے لئے ہمیشہ وکالت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی او آئی سی کے رابطہ گروپ، اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی فورمز و کانفرنسز میں ہمیشہ پرزور طریقے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بھر پور حمایت کی۔ صدر مسعود خان نے صدر طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے تاریخی خطاب میں بڑے واشگاف الفاظ میں کشمیر کاز کی حمایت کا اعلان کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ اپنے دورہ بھارت کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سے اس مسئلے کے حل کے لئے بات چیت کریں گے۔

صدر مسعود خان نے صدر طیب اردگان کی ان کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا جو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں کر رہے ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لئے وہ ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی طرح ترکی نے بھی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کا منصفانہ و پائیدار حل تلاش کرنے پر ہمیشہ زور دیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا پر امن ، جمہوری اور پائیدار حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے استعمال میں ہی مضمر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان نے ظلم و ستم کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ سر عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ان کا قتل عام کیا جاتا ہے اور انہیں پابند سلاسل بھی کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان طاقت کا بے جا استعمال کر کے اور دبائوں کے مختلف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے کشمیر کے لوگوں کو اپنی منصفانہ اور پرامن آزادی کی تحریک سے سر نگوں کرنا چاہتا ہے ، جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، کشمیر کے لوگ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اپنی آزادی کی جدوجہد ترک نہیں کریںگے جب تک کہ انہیں آزادی کی نعمت مل نہیں جاتی۔

اس موقع پر علی کرت نے مسئلہ کشمیر پر اپنی حکومت کا موقف دہرایا اور کہاکہ بحیثیت مسلمان ہم سب کا یہ مشترکہ فرض ہے کہ ہم انسانی عظمت اور مسلم امہ کی یکجہتی کے لئے جدوجہد کریں اور اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کو جن برائیوں اور مصیبتوں کا سامنا ہے ان کا سعی مشترکہ کے ذریعے حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ UNIWایک ایسا فورم ہے کہ جس کے ذریعے اسلامی دنیا کی مختلف NGOsکے درمیان تعمیر و ترقی ، باہمی روابط اور یکجہتی کو پروان چڑھانے کے لئے گہرے روابط موجود ہیں ۔

یہ فورم ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے جس کے تحت دنیا میں انصاف، امن اور استحکام آئے ۔ افراد اور معاشرے کے اندر انسانی حقوق اور شخصی آزادی کو تحفظ ملے ۔ صدر آزادجموں وکشمیر نے UNIWکی مخلصانہ کاوشوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کی یکجہتی اور اتحاد کے لئے ترکی نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ صدر مسعود خان نے آزادکشمیر کی حکومت اور عوام کی جانب سے ترکی کے اس تعاون پر بے پناہ شکریہ ادا کیا جو سال 2005کے تباہ کن زلزلے کے بعد انہوں نے مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ کی تعمیر نو کے لئے کیا۔ صدر نے علی کرت اور ان کے ساتھیوں کو اپنے آئندہ دورہ پاکستان کے موقع پر آزادکشمیر آنے کی بھی خصوصی دعوت دی ۔