جناح نہ تو علی گڑھ کے طالبعلم تھے نہ وہاں اُستاد تھے

ان کی تصویر کا علی گڑھ یونیورسٹی میں ہونا باعث شرم تھا، جاوید اختر نے مظاہرین کو مشورہ بھی دے دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 17:12

جناح نہ تو علی گڑھ کے طالبعلم تھے نہ وہاں اُستاد تھے
ممبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 03 مئی 2018ء) : بھارت کے معروف شاعر و مصنف نے علی گڑھ یونیورسٹی سے محمد علی جناح کی تصویر ہٹائے جانے پر رد عمل دیتے ہوئے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا کہ جناح علی گڑھ یونیورسٹی میں نہ تو زیر تعلیم رہے یا وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے معلم تھے۔ مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جناح کی تصویر کا علی گڑھ یونیورسٹی میں ہونا نہایت شرم کی بات ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طلبا جو چاہئیے کہ وہ رضا کارانہ طور پر ہی ان کی تصویر کو وہاں سے ہٹا دیں۔ اور وہ لوگ جو علی گڑھ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ان کو چاہئیے کہ دیوتاؤں کے احترام اور اعزاز میں بنائے گئے مندروں کے خلاف بھی احتجاج کریں۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آویزاں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر راتوں رات غائب ہوگئی تھی۔

محمد علی جناح کو 1938 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی اور ان کی تصویر دیگر رہنما ئو ں کے ساتھ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین آفس میں لگائی گئی تھی۔تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے رہنما ستیش کمار نے رواں ہفتے 30 اپریل کو علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کے نام لکھے گئے خط میں یونیورسٹی میں آویزاں محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔اور اب بھارتی نیوز چینل ٹائمز نا نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ قائداعظم کی تصویر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین آفس سے غائب ہوگئی ہے۔تاہم اس حوالے سے اب تک کچھ سامنے نہیں آیا کہ یہ تصویر کس نے ہٹائی ہے۔