آئندہ مالی سال میں پاکستان کی ترقی کی شرح 4.7 فیصد رہنے کی توقع ہے، آئی ایم ایف

معاشی خطرات میں اضافے اور تقسیم شدہ داخلی پالیسی نے پاکستان کو اقتصادی نقطہ نظر سے کمزور کیا، جس کے سبب مالی سال 2019 میں 4.7 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، رپورٹ

جمعرات مئی 19:59

آئندہ مالی سال میں پاکستان کی ترقی کی شرح 4.7 فیصد رہنے کی توقع ہے، آئی ..
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈکی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق آئندہ مالی سال میں پاکستان کی ترقی کی شرح 4.7 فیصد رہنے کی توقع ہے جو رواں مال سال کے دوران 5.6 فیصد تھی۔مشرق وسطی، شمالی افریقہ،، افغانستان اور پاکستان (مینیپ) کی معاشی صورتحال پر پیش کی گئی رپورٹ میں آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ معاشی خطرات میں اضافے اور تقسیم شدہ داخلی پالیسی نے پاکستان کو اقتصادی نقطہ نظر سے کمزور کیا، جس کے سبب مالی سال 2019 میں 4.7 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس سے قبل جنوری میں آئی ایم کی جانب سے آئندہ مالی سال میں پاکستان میں ترقی کی شرح میں اضافے کی توقع کی جارہی تھی، جبکہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے ترقی کا ہدف 6.2 فیصد رکھا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں رواں مالی سال برائے 17-2018 میں ترقی کی شرح بہتر ہو کر 5.6 فیصد رہنے کی وجہ توانائی کی فراہمی میں بہتری اور پاک چین اقتصادی راہداری ((سی پیک)) کی سرمایہ کاری کو قرار دیا گیا جو 16-2017 کے دوران 5.3 فیصد تھی۔

واضح رہے کہ مذکورہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں سیاسی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کے سبب ترقی پر مسلسل دبا رہتا ہے، اس فہرست میں پاکستان کے ساتھ دیگر ممالک میں اردن، مراکش، تیونس اور لبنان بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جہاں متوقع انتخابات اور سیاسی کشمکش کے پیشِ نظر اصلاحاتی عمل سست روی کا شکار ہوجاتا ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ کچھ ممالک میں بد عنوانی میں اضافہ اور مالی شفافیت کی عدم موجودگی نہ صرف بڑے معاشی نقصانات کا سبب بنتی ہے بلکہ اس سے پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری میں بھی کمی آسکتی ہے، مزید یہ کہ اس سے سماجی مسائل میں اضافہ اور اصلاحات کی راہ میں بھی رکاوٹ حائل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مینیپ ممالک میں شامل کچھ ممالک انتظامی امور اور شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ کاروباری فضا کو بہتر بنانے کی بھی کوششیں کر رہے ہیں، اور اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے دیوالیہ ہونے کے فریم ورک کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔۔