وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی چشم پوشی و لاپرواہی

ہم سیکٹروں میں کروڑوں روپے لاگت سے نصب کئے گئے 8فواروں میں سے 5فواروں کو زنگ آلود کر دیا گیا

جمعرات مئی 18:31

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی چشم پوشی اسلام آباد کے اہم سیکٹروں میں کروڑوں روپے لاگت سے نصب کئے گئے 8فواروں میں سے 5فواروں کو زنگ آلود کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

جبکہ سی ڈی اے پلان کے مطابق اسلام آباد کے تمام سیکٹروں میں 24فواروں کی تنصیب کی جانا تھی لیکن نئے فواروں کے بجائے پہلے سے نصب کئے گئے فواروں کو بھی ناکارا کیا جا چکا ہے علاوہ ازیںتمام پارکوں میں بچوں کے کھیلنے کے لئے سلائڈنگ،جھولے اور جنپنگ جھولا لگانے کی منظوری بھی پلان میں موجود ہے اس مقصد کے لئے سی ڈی اے ہر سال 3کروڑ سے زائد کا بجٹ مختص کرتا ہے تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے تمام سیکٹروں کی خوبصورتی کو ابہارنے کے لئے وہاں پر بنائی گئی تمام پارکوں میں بتدریج ایک فوارہ نصب کئے جانے کا پلان موجود ہے اس کے علاوہ تمام پکنک پوائنٹس پر بھی فواروں کے نصب کئے جانے کا پلان موجود ہے لیکن اس وقت اسلام آباد کے مشہور پکنک پوائنٹس جن میں شکرپڑیاں،جاسمین گارڈن،،فاطمہ جناح پارک،چڑیا گھر سمیت راول لیک ویو پار ک میں لگائے گئے کروڑوں روپے کی لاگت سے 6فواروں میں سے صرف 2فوارے کارآمد ہیں جبکہ 4فوارے زنگ آلود ہونے کے علاوہ ان کی ٹوٹیاں اور پائپ بھی غائب کئے جا چکے ہیں ادھر اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹن میں واقع گلورینس ہوٹل کے با لمقابل لگایا جانے والا فوارہ بھی کئی عرصے سے ناکارگی کا شکار ہے جبکہ سینٹورینس اور میریٹ ہوٹل کے ساتھ لگائے گئے فواروں میں بھی پانی سپلائی کرنے والے پائپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں شہریوں کی متعدد شکایات کے باوجود سی ڈی اے حکام ما سوائے اپنی رہائشگاہوں کے باقی سیکٹروں کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں جبکہ سی ڈی اے کے ذرائع نے بتایا کہ ہر سال فواروں اور پارکوں میں نصب کئے گئے بچوں کے کھلونوں پر 3کروڑ کا بجٹ نصب کیا جاتا ہے اور ایک سال کے دوران اس بجٹ میں سے ایک لاکھ بھی خرچ نہیں کیا جا سکتا ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اے وفاقی دارالحکومت کی پبلک پارکوں کے لئے 14کروڑ کا بجٹ مختص کر رہا ہے جس سے سالانہ آمدنی 50کروڑ سے زیادہ کی جا سکتی ہے لیکن قومی خزانے کو خسارہ پہنچانے کے لئے ادارے کے منتظمین پارکوں کے ٹینڈر کم قیمت پر اپنے کار خاص ٹھیکیداروں کو جاری کر دیتے ہیں اور اس طرح کروڑوں روپے قومی خزانے میں جانے کے بجائے افسران و ٹھیکیداروں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں