دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ امن و امان کی صورتحال سندھ میں ہے،سہیل انور سیال

پولیس کی پرفارمنس بھی تمام صوبوںکے مقابلے میں سب سے اچھی ہے، نیب کی کسی انکوائری میں میرا یا فریال تالپور کانام نہیں ،صوبائی وزیر داخلہ رائو انوار کوبحیثیت گردوں سے جان کا خطرہ تھا ہم نے چیف جسٹس کے کہنے پر انہیںسیکیورٹی دی،کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر بات چیت

جمعرات مئی 20:29

دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ امن و امان کی صورتحال سندھ میں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ امن و امان کی صورتحال سندھ میں ہے،،سندھ پولیس کی پرفارمنس بھی تمام صوبوںکے مقابلے میں سب سے اچھی ہے، نیب کی کسی انکوائری میں میرا یا فریال تالپور کانام نہیں ہے، رائو انوار کو دھشت گردوں سے جان کا خطرہ تھا ہم نے چیف جسٹس کے کہنے پر انھیں سیکیوریٹی دی ہے،میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ صائمہ کیس کے ملزمان سمیت تمام کیسز کو جلد سے جلد نمٹایا جائے تاکہ جن لوگوں نے گناہ کئے ہیں انھیں جلد سزا ملے، 28مئی کو ہماری حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے اس لئے میں نے رینجرز سمیت دیگر سیکیوریٹی کے اداروں کے ساتھ الوداعی ملاقاتیں شروع کردی ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں صحافت کے عالمی دن کے موقع پر کراچی پریس کلب کے دورے اور گورننگ باڈی کے اراکین سے ملاقات کے بعد بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر احمد ملک اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر داخلہ کو کراچی پریس کلب کی جانب سے اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔ سہیل انور سیال نے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں گرمی کی شدت انتہاء کو پہنچ چکی ہے میں احکامات دیئے ہیں کہ جہاں جہاں پولیس کے تھانے ہیں ان کے قریب پولیس کی جانب سے عوام کے لئے ٹھنڈے پانی کے کیمپ لگائے جائیں، اور جہاں پولیس کی موبائل موجود ہوعوام کو ٹھنڈا پانی فراہم کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سندھ کے جس کسی علاقے میں ٹکرائو اور یا کوئی تنازعہ ہو وہاں مقامی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر صورتحال سے نمٹے گا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ مین سیاسی صورتحال بہت زیادہ گرم ہے میں سیاسی جلسوں اور ریلیوں کے لئے ہدایت کی ہے کہ انھیں خصوصی سیکیوریٹی فراہم کی جائے۔خیبر پختونخوا سمیت دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں سندھ پولیس کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔

سہیل انور سیال نے کہا کہ جنسی تشدد کے واقعات ساری دنیا میں ہورہے ہیں ہمارے ہاں بھی ہورہے ہیں لیکن بہت سے کیسز بلائنڈ ہوتے ہیں ان کے بارے میں پتہ چلانے میں وقت لگتا ہے۔ صائمہ کیس کے سلسلے میں شکر ہے کہ تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں اور اور دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کر لئے گئے ہیں۔ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کیس کو جلد سے جلد نمٹایا جائے تاکہ ملزمان کو جلد سے جلد سزا ملے۔

اس کے علاوہ ہم ملزمان کوجلد سزا مل سکے اور بے گناہوں کو رہائی ملے کے لئے قانون سازی بھی کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ 2016 میں مجھ پر سندھ ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواء، اور اربوں روپے کی کرپشن کو جھوٹا الزام لگا تھا لیکن عدالت میں یہ بات ثابت ہوئی کہ جس شخص نے مجھ پر الزامات لگائے تھے وہ میرا سیاسی مخالف تھااور اس نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے تھا۔

عدالت نے نیب سے میرے حوالے سے رپورٹ مانگی تھی نیب کی رپورٹ کے مطابق میرا اور فریال تالپور کا نام نیب کی کسی انکوائری میں موجود نہیں ہے اور نہ کسی حوالے سے ہم پر کوئی الزام ہے۔۔رائو انوار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رائو انوار کو بہت عرصے سے دھشت گردوں سے جان کا خطرہ ہے اور صوبائی حکومت کا کام ہے کہ انھیں تحفظ فراہم کرنا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ کو رائو انوار کے حوالے سے سکیوریٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔سہیل انور سیال نے کہا کہ 28مئی کوہماری حکومت کی مدت ختم ہورہی ہے میں نے رینجرز سمیت دیگر سیکیوریٹی کے اداروں کے ساتھ الوداعی ملاقاتوں اور میٹنگز کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔