پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے اپریل2018کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

قوانین کی خلاف ورزی اور مشکوک حرکات پر 14 ہزار سے زائدکیسزرپورٹ کیے، پولیس کو انویسٹی گیشن میں مدد کیلئے 130 سے زائد کیسز میں ڈیجیٹل شہادتیں مہیا کی گئیں، 15ایمرجنسی ہیلپ لائن پر 3 لاکھ 20ہزار کالزموصول ہوئیں؛30ہزارکیسز ڈسپیچ سینٹر بھجوائے گئے � زائد قانون شکن عناصرکے خلاف ایف آئی آر درج ،ایک ماہ میں 65موٹر سائیکلز اور 3گاڑیاں برآمد کرکے ماکان کے حوالے کیں

جمعرات مئی 20:29

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے اپریل2018کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت پنجاب پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سینٹر آپریشن کمانڈ نے اپریل 2018 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کے آپریشن مانیٹرنگ سینٹرنے قوانین کی خلاف ورزی اور مشکوک حرکات پر 14 ہزار 775 کیسزرپورٹ کیے۔ اپریل کے دوران 194 مشتبہ افراد کو پی آر یو اور ڈولفن اسکواڈز کے ذریعہ چیک کروایا گیاجبکہ 10سے زائد قانون شکن عناصر کیخلاف ایف آئی آر درج کروائی گئیں۔

سینٹر سی131سے زائد احتجاج اور ریلیوں کوڈیجیٹل سرویلنس سسٹم کے تحت مانیٹر کیا گیا۔ اتھارٹی کے ویڈیو کنٹرول سینٹر کی جانب سے پولیس کو انویسٹی گیشن میں مدد کیلئے 130سے زائد کیسز میں ڈیجیٹل شہادتیں مہیا کی گئیں جن میں ڈکیتی اور راہزنی کی 50 سے زائد اور اغواء برائے تاوان کی6کیسز شامل ہیں۔

(جاری ہے)

سیف سٹیز اتھارٹی نے Lost & Found ایپلیکیشن کی مدد سے 5 گمشدہ افراد کو اپنوں سے ملوایا۔

ایک ماہ میں 64 موٹر سائیکلز اور3 گاڑیاں برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کی گئیں۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے 15ایمرجنسی کنٹرول سینٹر میں 3 لاکھ 20ہزار کالزلی گئیں جن میں سے 2 لاکھ 22 ہزار کالز بوگس نکلیں۔ اتھارٹی کے ایمرجنسی کنٹرول سینٹر سے 30 ہزارسے زائد کیسز فوری ایکشن کیلئے ڈیسپیچ کنٹرول سینٹر کو بھجوائے گئے جن میں سے 1900 سے زائد ٹریفک اور 1300سے زائدریسکیو امداد سے متعلقہ تھے۔

خواتین سے بدتمیزی کے حوالے سے 1062کالزموصول ہوئیں جن میں سے 465 پرکیسز بنائے گئے۔ اتھارٹی کے میڈیا مانیٹرنگ سینٹر نے 138 ممنوعہ سوشل میڈیا پیجز اور لنکس جن پر فرقہ وارانہ اور شدت پسندی کی تشہیر پر مبنی مواد موجود تھا کو رپورٹ کیا اورانہیں بلاک کروایا گیا ۔ ویری ایبل میسیجنگ سروس کے تحت ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے آگاہی مہم اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے حوالے سے اشتہاری مہم سوشل میڈیا اور VMS اسکرینز کے ذریعہ سے یقینی بنائی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی راہنمائی و تعاون کیلئے اتھارٹی ہمہ وقت مصروف عمل ہے۔