آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ کرکے پورے آزاد کشمیرکو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے،بیرسٹر سلطان محمود چوہدری

میرپورکومفت بجلی فراہم کرنے کے دعوے جھوٹے نکلے،موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے،مختلف وفود سے ملاقات میں بات چیت

جمعرات مئی 20:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ کرکے پورے آزاد کشمیرکو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے حالانکہ آزاد کشمیربجلی پیدا کر رہا ہے لیکن چراغ تلے اندھیرے کا سماں ہے ً۔ جب منگلا ڈیم بنا تھا تو میرپور کے لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ میرپور کو بجلی مفت فراہم کی جائیگی لیکن مفت بجلی تو کجا بجلی ہی نہیں دی جا رہی ہے۔

اسی طرح نیلم ، جہلم اور کروٹ سے تقریباً 3000 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور آزاد کشمیر کی ضرورت صرف تین سو میگاواٹ ہے وہ بھی حکومت پاکستان دینے سے قاصر ہے۔ جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں سرے سے لوڈشیڈنگ ہی نہیں ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ حکومت آزادکشمیر یہ بنیادی اور عوامی مسئلہ نہیں اٹھا رہی۔کیونکہ وہ دھاندلی کی پیداوار ہے اس میں اتنی سکت اور اخلاقی جر ات نہیں کہ کہ یہ مسئلہ اٹھا سکے۔

لیکن ہم اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھائیں گے اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو پورے آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال دیں گے تاکہ حکومت پاکستان کو بجلی کی فراہمی پر آمادہ کیا جا سکے۔جب ہم مقبوضہ کشمیر میں دیکھتے ہیں تو ہمیں مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں فرق واضح نظر آتا ہے آزاد کشمیر اندھیروں میں اور مقبوضہ کشمیر رات کوروشنی سے چمک رہا ہوتا ہے۔

جبکہ بھارت نے جو مقبوضہ کشمیر میں باڑ لگائی ہے وہ بھی رات کو آزاد کشمیر کے لوگوں کو پیغام دے رہی ہے کہ مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں فرق دیکھ لیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹریٹ میں آزاد کشمیر بھر سے آئے ہوئے مختلف وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اب لوڈشیڈنگ ناقابل براداشت حد تک پہنچ چکی ہے اور اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے اور اب احتجاج شروع ہونے والا ہے اور عوام کے ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچنے والے ہیںکیونکہ حکمران کبھی صدر کبھی وزیر اعظم بیرون ممالک کے دوروں پر کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں اور بجلی جیسی بنیادی ضرورت پر بھی لوگوں کے جذبات کی ترجمانی نہیں کی جا رہی۔

حالانکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے خود وعدہ کیا تھا کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ لیکن پاکستان میں جہاں انہیں ووٹو کی ضرورت ہے وہاں تو لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ آزاد کشمیرتاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔اب جبکہ سخت گرمی شروع ہو چکی ہے لوگ گرمی سے تلملا اٹھے ہیں جبکہ حکمران خود ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں رہتے ہیں اور انکے کان پر جون تک نہیں رینگتی۔ اسلئے پی ٹی آئی احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے لگی ہے پھر حکومت یہ نہ کہے کہ یہ تنقید برائے تنقید ہے بلکہ ہم عوام کو انکا حق دلوانے کے لئے کھڑے ہو رہے ہیں۔لہذا حکومت فوری طور پر آزاد کشمیر میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے۔