امریکی جج کا ایران کو نائن الیون کے متاثرہ خاندانوں کو چھ ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم

وفاقی عدالت کو ایران کی جانب سے القاعدہ کو مہیا کی گئی مالی امداد کے ثبوت پیش کردیئے،وکیل متاثرین

جمعرات مئی 20:31

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) امریکا کے ایک وفاقی جج نے ایران کو 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں ہلاک شدگان کے خاندانوں کو 6 ارب ڈالرز کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔جج نے قرار دیا ہے کہ ایران کے مختلف ادارے ان حملوں میں بالواسطہ ملوث ہونے کے الزام میں قابل مواخذہ تھے۔امریکی ٹی وی کے مطابق وفاقی جج بی ڈینیلز نے قرار دیا کہ ایران ،سپاہ پاسداران انقلاب اور ایرا ن کا مرکزی بنک دہشت گردوں کے امریکا پر طیارہ حملوں میں معاونت کے قصور وار ہیں جن کے نتیجے میں کم سے کم تین ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عدالت میں مقدمہ دائر کرنے والے متاثرہ خاندانوں کے ایک وکیل رابرٹ ہائفیل نے کہا کہ وفاقی عدالت کو ایران کی جانب سے القاعدہ کو مہیا کی گئی مالی امداد کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں اور اس کی یہ مادی امداد ہی القاعدہ کے نائن الیون حملوں کا ایک سبب بنی تھی جس سے ہلاکتیں ہوئیں ، سیکڑوں افراد زخمی ہوئے اور تباہی ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

وفاقی جج نے ایران کو حکم دیا کہ وہ ہر متاثرہ ماں باپ کو 85 لاکھ ڈالرز ، ہر متاثرہ خاوند یا بیوی کو ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالرز ، باپ یا ماں محروم ہوجانے والے ہر بچے کو 85 لاکھ ڈالرز اور ہر متاثرہ بہن یا بھائی کو ساڑھے 42 لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کرے۔

ایران نے امریکا میں اپنے خلاف ہرجانے کے اس مقدمے کی سماعت کے آغاز کے بعد سے خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔اس لیے اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کو عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے کوئی رقم ادا کرے گا۔