بھارت ،کتوں کے حملے میں تین بچے ہلاک، مشتعل لوگوں نے 13 کتے مار ڈالے

کتوں کے حملوں کو کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے اہل کاروں اور عہدے داروں پر مشتمل ٹیم بنا دی گئی

جمعرات مئی 20:31

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) بھارت کے ایک دیہات میں ایک ہی دن میں کتوں کے کاٹنے سے تین بچوں کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے مشتعل ہو کر 13 آوارہ کتوں کو مار ڈالا۔ بھارت میں کتوں کو ہلاک کرنا جرم ہے۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے ایک گاؤں خیرآباد میں پیش آیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کتوں کے حملوں سے علاقے میں کافی خوف و ہراس اور اشتعال پھیلا ہوا ہے۔

اور جنوری سے اب تک ان حملوں میں 14 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔کتوں کے ٹولیوں نے تین مختلف واقعات میں تین بچوں کو اس وقت حملے کر کے ہلاک کر ڈالا جب وہ آبادی کے باہر باغ میں آم توڑ رہے تھے۔ تینوں بچوں کی عمریں 12 سال سے کم تھیں۔۔بھارت میں 2001 میں جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق منظور کیے جانے والے قانون کے تحت آوارہ کتوں کو ہلاک کرنا جرم ہے۔

(جاری ہے)

لیکن دیہاتیوں نے قانون کی پروا نہ کرتے ہوئے تین کتوں کو گولی مار کر اور 10 کو ڈنڈوں سے پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ضلعی پولیس افسر سریش راؤ کلکرانی نے بتایا کہ کتوں نے جب حملہ کیا تو اس وقت بچے اکیلے تھے۔۔پولیس عہدے دار نے کم ازکم تین بچوں کی ہلاکتوں کی تصدیق بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری سے اب تک کتوں کے حملوں میں کئی بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے کہا کہ کتوں کے حملوں کو کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے اہل کاروں اور عہدے داروں پر مشتمل ایک ٹیم بنا دی گئی ہے۔عہدے داروں کا کہنا تھا کہ کتوں کے حملوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نومبر میں یہاں کا ذبحہ خانہ بند کر دیا گیا تھا۔ جو کتوں اور دیگر جانوروں کو بچا کچا گوشت اور چھچھڑے وغیرہ مہیا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تین کروڑ آوارہ کتے موجود ہیں اور خبروں کے مطابق ہر سال لگ بھگ ایک کروڑ 70 لاکھ کتے کسی نہ کسی کو کاٹ لیتے ہیں۔صحت کے عالمی ادارے کے 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال کتے کے کاٹنے سے تقریباً 20 ہزار افراد باولے پن کے مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔کتوں کو مارنے کیخلاف قانون کے باوجود بھارت میں کتوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :