وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات و رہائشی گھروں کے غیر قانونی استعمال کے خلاف درخواست کی سماعت 10مئی تک ملتوی

جمعرات مئی 20:41

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات و رہائشی گھروں کے غیر قانونی استعمال کے خلاف دائر درخواست پر تمام غیر قانونی اڈوں سمیت تجاوزات کا خاتمہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 10مئی تک ملتوی کر دی ۔ جمعرات کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر متشمل سنگل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

چیرمین سی ڈی اے ، میئر اسلام آباد اور چیف کمشنر عدالت میں پیش ہوئے ۔ اس موقع پر تجاوزات کے خلاف سی ڈی اے آپریشن کی رپورٹ پیش عدالت میں پیش کی گئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے تجاوزات کے خلاف مرحلہ وار آپریشن کرے گا،پلان کے تحت آپریشن کا آغاز ایف سکس سے ہو گا، بس ٹر مینل کے لیے پی سی ون منظور ہو چکا ہے، سی ڈی اے کی جانب سے فیض آباد پر صرف دو بس سٹینڈ بنانے کی اجازت دی گئی۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران فاضل جسٹس شوکت عزیز صدیقی ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے اور انتظامیہ کے کچھ عناصر تجاوزات کے خلاف عدالتی احکامات کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ تجاوزات کے خاتمے کا منظم پلان عدالت میں پیش کریں، جہاں آپریشن میں رکاوٹ ہو عدالت کے نوٹس میں لائیں،اسلام آبادکو تمام تجاوزات سے پاک کیا جائے،اسلام آباد میں کھربوں کی جائیداد پر تجاوزات قائم ہیں، غیر قانونی بس اڈوں نے فیض آباد کے دوسرے حصہ پر قبضہ کررکھا ہے،آپریشن کے بعد تجاوزات کسی صورت دوبارہ نہ قائم ہوں،عدالتی فیصلے پر ہر صورت عمل درآمد کروائیں گے ۔ عدالت نے مذید سماعت 10مئی تک ملتوی کر دی ۔