پیپلز پارٹی شہر میں مزید جلسہ کرے گی، جلسہ میں سانحہ 12 مئی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا

صوبائی وزراء پاکستان پیپلز پارٹی کی پیپلز میڈیا سیل میں پریس کانفرنس

جمعرات مئی 20:46

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے وزراء جام خان شورو، ناصر حسین شاہ اور سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ٹنکی گرائونڈ کے ایک جلسہ نے کراچی کے دعوے داروں کو حواس باختہ کردیا ہے، پیپلز پارٹی شہر میں مزید جلسہ کرے گی اور 12 مئی کے جلسہ میں سانحہ 12 مئی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا،2 سال کے دوران پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نی14 ارب روپے سے ترقیاتی کام صرف کراچی میں کرائے ہیں، ماضی کے مئیر نے 300 ارب روپے سے شہر میں کیا ترقیاتی کام کروائے ان کا حساب دیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پیپلز میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینٹر عاجز دھامرا اور حمیرہ علوانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھی۔

(جاری ہے)

جام خان شورو نے کہا کہ ایم کیو ایم گذشتہ 30 سال سے بالواسطہ یا براہ راست لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر اداروں پر براجمان رہی لیکن انہوں نے شہر میں پینے کے پانی،، سیوریج اور صفائی ستھرائی کے لئے کوئی کام نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ٹنکی گرائونڈ میں ایک جلسہ کیا تو ایم کیو ایم حواس باختہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کو تباہی کے داہنے پہنچانے میں ایم کیو ایم کا پورا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی کے ایک ناظم جس کو آج وہ خود برا کہتے ہیں نے اس شہر کی ترقی کے لئے 300 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کئے لیکن اس شہر کے انفراسٹریکچر، سڑکیں ، پانی،، سیوریج اور صفائی کے لئے کوئی کام نہیں کیا ہے۔

ان وزراء نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ سندھ حکومت نے دو سال کے دوران اس شہر میں 4 ارب روپے کی لاگت سے کئی منصوبوں پر کام شروع کیا اور اس میں شہر میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا، اورہیڈ اور انڈر پاسز تعمیر کرائے گئے ہیں اور ان میں شارع فیصل، طارق روڈ، یونیورسٹی روڈ، ہمدرد یونیورسٹی روڈ، لانڈھی روڈ، حب ریور روڈ، سمیت دیگر شام ہیں۔

وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ ہم نے کے ایم سی کو ہر سال 7 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں کے لئے خصوصی گرانٹ علیحدہ سے فراہم کی لیکن افسوس کہ دو سال میں 14 ارب روپے کی گرانٹ حاصل کرنے کے بعد بھی مئیر کراچی وسائل نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی بتائیں کہ انہوں نے 14 ارب روپے سے کراچی میں کون سے ترقیاتی کام کرائیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی کے پانی کے مسئلہ کے حل کے لئے K-4 منصوبہ شروع کیا ہے اور اس کے پہلے فیز کا 50 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ K-4 کے تینوں فیز سے 800 ایم جی ڈی پانی فراہم ہوگا اور کراچی میں اس کے پہلے فیز سے 260 ملین گیلن یومیہ پانی کی دستیابی سے پانی کا مسئلہ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایس تھری منصوبے کو بھی موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے شروع کروایا ہے جبکہ شہر کے 4 اضلاع میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے تحت صفائی ستھرائی کے کام کا آغاز کیا گیا ہے اور جہاں لینڈ فل سائیڈ پر پہلے 3 سے 4 ہزار میٹرک ٹن کچرا جاتا تھا اب اس کی جگہ 10 سے 12 ہزار میٹرک ٹن کچرہ پہنچایا جارہا ہے۔

جام خان شورو نے کہا کہ آج بھی ایم کیو ایم کی سیاست کی وجہ سے کورنگی اور سینٹرل اضلاع میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے تحت کام شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک جلسہ کے بعد ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر دور میں کراچی کی ترقی کے لئے کا کیا ہے اور بھٹو شہید کا دور حکومت ہو یا شہید بے نظیر بھٹو کی حکومت ہو ہم نے کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات کئے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم ملکی سیاست کو اس شہر میں عام کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ٹنکی گرائونڈ کے جلسہ نے اس کو ثابت کیا ہے اور اب اس شہر کے عوام ان نفرت کرنے والوں کا کبھی ساتھ ن ہیں دیں گے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی کا جلسہ اس شہر میں محبت کی علامت بنا ہے اور آئندہ ہونے والے جلسوں کے بعد اس شہر میں نفرتوں کو پروان چڑھانے والوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔