کھلونا آپ نے خود توڑا اور غلط دوسروں کو کہتے ہیں ،عمران خان

لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں انکے منشور میں کچھ نہیں‘ آصف زرداری پاکستان پبلک لمیٹڈ کمپنی نہیں قوم اور ملک ہے ،ہم پاکستان کو بنائیں گے،حکمران چند ایک بڑی سڑکوں سے نیچے اتر کر دیکھیں لاہور میں بھی غریب بستے ہیں ہم شہروں میںبھی راشن کارڈ دیں گے ،جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے کو سینیٹ سے منظور کرایا ،مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں راستہ روکا کشمیر کے شہید پاکستانی پرچم کیساتھ دفن ہونا چاہتے ہیں ،یہاں کوئی مودی کا یار بننا چاہتا ہے ، انہیں کھانے کھلانا او رانڈسٹری لگانا چاہتا ہے

جمعرات مئی 20:52

کھلونا آپ نے خود توڑا اور غلط دوسروں کو کہتے ہیں ،عمران خان
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سابق صدر مملکت و پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کھلونا آپ نے خود توڑا اور غلط دوسروں کو کہتے ہیں ،،عمران خان لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں لیکن ان کے پاس منشور میں کچھ نہیں ،،پاکستان پبلک لمیٹڈ کمپنی نہیں بلکہ یہ قوم اور ملک ہے اور ہم پاکستان کو بنائیں گے،کاشتکاروں کے لئے نئی پالیسی بنائی ہے ،زرعی لوازمات پر سبسڈی دیں گے، حکمران چند ایک بڑی سڑکوں سے نیچے اتر کر دیکھیں لاہور میں بھی غریب بستے ہیں ،ہم شہروں میںبھی راشن کارڈ دیں گے ،جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے کو سینیٹ سے منظور کرایا لیکن مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں اس کا راستہ روکا اور باقی لوگوں نے بھی اس کی مخالفت کی ،کشمیر کے شہید پاکستانی پرچم کے ساتھ دفن ہونا چاہتے ہیں لیکن یہاں کوئی مودی کا یار بننا چاہتا ہے ، انہیں کھانے کھلانا او رانڈسٹری لگانا چاہتا ہے لگتا ہے کہ کسی کو اس دھرتی سے پیار نہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارا نہوں نے بلاول ہائوس لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر بختاور بھٹو ، چوہدری منظور، عزیز الرحمن چن سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ہمارے تمام ممالک سے تعلقات اور رابطے تھے ، ہمارے دور میں افغانستان کا باڈر گرم نہیں تھا ، ایران بھارت سے اس طرح کی صورتحال نہیں تھی ، ہم ڈپلومیسی کے ذریعے برطانیہ اور امریکہ سے بات کر رہے تھے اور پاکستان کی عزت تھی انشااللہ اب بھی وہ دن دور نہیں اور کامیابی ہمارے قدم چومے گی اور ہم پاکستان کو وہی عزت اور مقام دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران کہاں ہیں کہاں ہے ان کا منشور ۔ ہم تو کہتے ہیں پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے ، ہم نے کشمیر کے لئے جدوجہد کرنی ہے ۔ کشمیر کے شہید آج بھی پاکستان کے پرچم کے ساتھ دفن ہونا چاہتے ہیں لیکن یہاں کوئی مودی کا یار بننا چاہتا ہے ،انہیں کھانے کھلانا اور انڈسٹری لگانا چاہتا ہے ۔ لگتا ہے کسی کو بھی اس دھرتی سے پیار نہیں ہے ، ہماری قوموں سے پیار نہیں ہے لیکن انہیں باہر کی دنیا سے پیار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اداروں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں، نواز شریف نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہم کاشتکاروں کے لئے نئی پالیسی بنائی ہے ، یوریا کھاد کی بوری500روپے میں ملے گی ،دیگر زرعی لوازمات کے لئے نئی پالیسیاں بنائیں گے ۔ لاہور شہر میں بھی غریب بستے ہیں،حکمران رنگ روڈ اور چند ایک بڑی سڑکوں سے نیچے اتر کر دیکھیں ،پیچھے جا کر دیکھیں وہی کچرا اور برا حال ہے ہم شہروں میں بسنے والے غریبوں کو بھی راشن کارڈ دیں گے۔

انہوںنے کہا کہ لاہور سب سے بڑا شہر ہے ، لاہور اورپنجاب قدیم اور ثقافت والے شہر ہیں اور ہمیں انہیں پیار کے ساتھ رکھنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کسی ایک صوبے کے لئے نہیں تھی بلکہ یہ پنجاب،، خیبر پختوانخواہ، سندھ اور بلوچستان کے لئے تھی ۔ پاکستان پبلک لمیٹڈ کمپنی نہیں بلکہ یہ قوم اور ملک ہے اور ہم پاکستان کو بنائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی اور اس معاملے کو سینیٹ سے پاس کرایا ۔

(ن) لیگ نے قومی اسمبلی میں اس میں رکاوٹ ڈالی ، چوہدری صاحبان اور عمران خان نے بھی مخالفت کی ۔ میں جو کام پانچ سال پہلے کرتا ہوں انہیں پانچ سال بعد یاد آتا ہے لیکن پھر دیر آید درست آید ۔ بی بی شہید فاٹا کو خیبر پختوانخواہ میں ضم کرنے کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے کر گئی تھیں ، ہم آئندہ اسمبلی سے اسے منظور کرائیں گے اور خیبر پختوانخواہ والوں کو خوشخبری دیں گے ۔ علاقہ غیر اور قبائلی ایجنسیوں میں بسنے والے اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے ہم سب ہیں ۔اس موقع پر کارکنوں نے اپنی قیادت کے حق میں نعر ے بھی لگائے۔