پی ٹی آئی کے منحرف اقلیتی راہنماء ساجد اسحاق سندھو کو دوسروں پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اپنی حیثیت واضع کرنا ہوگی ،سینیٹر کامران مائیکل

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سیٹ کیلئے مسترد کیے جانے کے بعد ذاتی مفاد کی خاطر پارٹی سے دستبردار ہونے والوںکی کوئی ذاتی پہچان نہیں،بیان

جمعرات مئی 22:33

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) وفاقی وزیر برائے شماریات سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اقلیتی راہنماء ساجد اسحاق سندھو کو دوسروں پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اپنی حیثیت واضع کرنا ہوگی۔ گزشتہ الیکشن کے بعد پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سیٹ کیلئے مسترد کیے جانے کے بعد ذاتی مفاد کی خاطر پارٹی سے دستبردار ہونے والوںکی کوئی ذاتی پہچان نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر شماریا ت نے کہا کہ وزارت نے بروقت الیکشن کے انعقاد کیلئے مردم شماری کے اعدادوشمار جاری کردیے تھے ، جبکہ دیگر مذہبی اقلیتوں کے اعدادوشمار جلد جاری کردیے جائیںگے۔ جس کیلئے کابینہ اورقومی اسمبلی میںتمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں نے اجازت لی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ آئین کی رو سے آخری مردم شماری کے مطابق الیکشن کرائے جاتے ہیں ، لہذا آئندہ ہونے والے الیکشن مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق کیے جائیںگے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ کسی غیرسرکاری اور غیر منتخب شخص کو جواب دہ نہیں ہیں۔البتہ اگر موصوف اپنی کانفرنس کے دوران اپنے گزشتہ کارناموںکا حساب بھی قوم کے سامنے رکھ دیتے توبہتر ہوتا اور اگر وہ نہیں کرتے تو امید رکھیں کہ ہم خود قوم کو بتائیں گے ۔ کیونکہ غریب شہریوںکے حقوق کیلئے بنائی جانے والی این جی او کے فنڈز کوسیاسی مقاصد کیلئے کیوں استعمال کیا گیا ہے۔

اگر وہ عوام کی خد مت کا جذبہ رکھتے تھے تو انہوںنے اپنا ووٹ اسلام آباد سے خیبر پختونخواہ کیوں منتقل کیا ِ حقیقت تو یہ ہے کہ پارٹی نے انکی حرکتوںکی وجہ سے انہیں پارٹی کی جانب سے انکا انتخاب نہیںکیا گیا۔کامران مائیکل نے کہا کہ تمام مسیحی اس بات سے واقف ہیں کہ کون سانمائندہ ان کے حقوق کیلئے کام کررہا ہے ۔۔۔۔۔۔ شمیم محمود