کچھ لوگوں کو ایم ایم اے کی بحالی برداشت نہیں ہورہی، مذہبی ووٹ تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، پیر اعجاز ہاشمی

تبدیلی کے نعروں پر عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا،اب صرف نظام مصطفی کی بات ہوگی اورمہریں کتاب کے نشان پر لگیں گی

جمعرات مئی 22:14

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) جمعیت علما پاکستان کے مرکزی صدر اور متحدہ مجلس عمل کے نائب صد رپیر اعجاز احمدہاشمی نے کہا ہے کہ ایم ایم اے ہی موثر دینی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ عوام آئندہ انتخابات میں پانچوں دینی جماعتوں کے مشترکہ امیدواروں کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں پہنچائیں گے۔ تبدیلی اور روٹی کپڑا ور مکان کے نعروں پر عوام کو اب بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

اب صرف نظام مصطفی کی بات ہوگی اورمہریں کتاب کے نشان پر لگیں گی۔ کسی کی شعبدہ بازی چلے گی اور نہ ہی سیاسی یتیموں کا چورن بکے گا۔ قوم کو جگانا ہوگا۔ کتاب کو جتانا ہوگا۔ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں کامیاب ورکرز کنونشن میں شرکت کے بعد لاہور پہنچنے پرجے یو پی پنجاب کے صدر مولانا نوراحمد سیال اورصوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جاوید اختر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ تبدیلی کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ہمیںتبدیلی نظام کی چاہیے،چہروں کی نہیں۔ کچھ لوگوں کو ایم ایم اے کی بحالی برداشت نہیں ہورہی ۔ اس لئے مذہبی ووٹ تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعتوں سے نکالے گئے اور عوام کے ٹھکرائے عناصر مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اپنی اصل جماعتوں سے علیحدہ ہوکر گروپ بنانے والوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اپنی اپنی جماعتوں میں واپس آجائیں۔

مذہبی ووٹ تقسیم نہ کریں۔پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ وفاقی پارلیمانی جمہوریت اور اسلامی نظام کانفاذ چاہتے تھے۔ مگر ان کی وفات کے بعد آنے والے حکمرانوںنے 1973ء تک 26 سال کے طویل عرصے میں ملک کا متفقہ آئین ہی نہ بننے دیا۔ اداروں نے مداخلت جاری رکھی۔ کبھی بیوروکریٹ تو کبھی وردی والے حکومت کرتے رہے۔ سرمایہ داروں جاگیر داروں نے ملکی سیاست کو تختہ مشق بنائے رکھا اور عوام کی بجائے اپنا ایجنڈا چلاتے رہے۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر قوم کو بیوقوف بنایا گیا۔ مگر اب کسی کا چورن نہیں بکنے والا۔ محمد عربی کے غلام کسی یہودی لابی کی چال نہیں چلنے دیں گے۔