قومی اسمبلی میں بحٹ پر بحث ، اپوزیشن، حکومتی اور اسکی حلیف جماعتوں کا زرعی شعبے کو نظرانداز کر نے پر شدید تحفظات کا اظہار

قرضوں کی ادائیگی اور خسارے میں کمی کیلئے حکومت نے کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی ہے اپوزیشن اراکین نے حکومت کی جانب سے ٹیکس ایمنٹی سکیم کو منی لانڈرنگ، ٹیکس چوروں اور ملک کا پیسہ لوٹ کی بیرونی دنیا میں محلات بنانے والوں کیلئے رعایت کے مترادف ہے، اپوزیشن لیڈ خورشید شاہ اور ا سد عمر کا اظہار خیال

جمعرات مئی 21:04

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں بحٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن، حکومتی اور اسکی حلیف جماعتوں نے زرعی شعبے کو حالیہ بجٹ میں نظرانداز کرنیپر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے ملک پر بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اضافے، درآمدات میں کمی اور تجارتی شعبے کو نظرانداز کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی اور خسارے میں کمی کیلئے حکومت نے کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی ہے، اپوزیشن اراکین نے حکومت کی جانب سے ٹیکس ایمنٹی سکیم کو منی لانڈرنگ، ٹیکس چوروں اور ملک کا پیسہ لوٹ کی بیرونی دنیا میں محلات بنانے والوں کیلئے رعایت قرار دیا ہے، جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ 194ملین کی ہے جبکہ نئے ٹیکس 480ملین کے لگائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے غریب آدمی کو مشکل درپیش ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکس دھندگان میں کمی ہو رہی ہے، حکومت کے جانب سے ایمنسٹی سیکم کا اعلان کیا گیا ہے مگر اس میں بھی خاطرخوا کامیابی نہیں مل رہی، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کو مل بیٹھ کر اقدامات کرنے کی تجویز دی گئی مگر اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا ہے، سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس وقت لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کوئی بھی پارٹی آئین پر اور اپنے منشور پر عمل درآمد نہیں کرتی ہے ملک کے غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، محض الیکشن جیتنے کیلئے سستی روٹی کا منصوبہ شروع کیا گیا اور حکومت ملتے ہی اس کو ختم کر دیا گیا یہ تو پنجاب کے عوام کے ساتھ ایک دھوکہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو 50لاکھ گھر دینے کا جھانسہ دیا گیا، انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو قوم کے ساتھ دھوکہ نہیں کرنا چاہئے، سیاستدان جیسا عزت دار کوئی نہیں ہوتا ہے مگر پاکستان میں سیاست کو جان بوجھ کر گندا کیا جارہا ہے وہ لوگ گندے ہیں جو سیاست کو گندا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بے بسی پر رونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ2015ء میں سگریٹ سے 114ارب روپے ٹیکس ملتا تھا جو 16-17میں79ارب ہو گیا اس میں 30ارب سے زائد کا ڈائو ن فال کیوں ہوا ہے، اس کا جواب چاہئے، انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کو روکنے کیلئے اپنے ٹیکس آمدن کو 30ارب روپے کا چونا لگایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پوچھتی ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر اس کی انکوائری کی گئی تو بہت کچھ سامنے اسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں صحت کی صورتحال بے حد خراب ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں ہرسال 10لاکھ بے روزگاروں کا اضافہ ہوتا ہے، کیا موجودہ بجٹ میں ان بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر اس کو کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک قوم میں جرات اور طاقت نہیں ہوگی تو اس وقت تک ایٹمی طاقت بننے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا سید خورشید شاہ نے کہا کہ سابقہ ادوار میں پیپلزپارٹی کی کمزور حکومت برآمدات کو 25ارب ڈالر تک لے گئی جبکہ درآمدات 40ارب ڈالر تھی اور اسمیں 15ارب ڈالر کا فرق تھا مگر 2018میں یہ فرقہ بہت بڑھ گیا ہے، آج درآمدات 55ارب ڈالر جبکہ برآمدات 18ارب ڈالر ہے جبکہ اس وقت تیل کی قیمتیں بھی بہت کم تھیں، انہوں نے کہا کہ پانی خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے تربیلا کے تمام یونٹس بند ہو گئے ہیں مگر حکومت ڈھٹائی کے ساتھ لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے دعوے کرتی ہے،انہوںنے کہا کہ بجلی چوروں پر انکوائری کرائی گئی کہ جس سے پتہ چلا کہ صرف لاہور کی چوری 2ڈیسکوز سے زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

جہاں پر 85فیصد سے زیادہ کارخانے ہیں اور اس وجہ سے نقصانات کور ہوجاتے ہیں۔ انہوؔں نے کہا کہ حکومت ہمیں بتائے کہ کونسی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے ۔ بلوچستان میں چالیس فیصد ایریا ایسا ہے جہاں پر بجلی کی سہولت ہی نہیں ہے ۔ غریب بلوچ اور پختون کو ملنے ولی سبسڈی ختم کردی گئی ہے اس وقت ضرورت یہ ہے کہ پانی پر ایمرجنسی نافذ کی جائے۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے گئے ہیں۔

اس وقت حکومت کے پاس 17 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں جبکہ 2010,11میں یہ ذخائر 18ارب ڈالر سے زائد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2015میں 2ارب ڈالر ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور بیرون ممالک سے کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کمی کی گئی ہے ۔نوجوانوں کیلئے قرضہ سکیم پچاس فیصد کم کردی گئی ہے جبکہ پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال کی گرانٹ بھی کم کردی گئی ہے ۔ زرعی شعبے میں ٹیوب ویلز پر سبسڈی آٹھ ارب سے کم کرکے پانچ ارب کردی ہے جبکہ گندم پر بھی سبسڈی کم کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بچانا ہوگا۔ مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی معاشی پا لیسیان پیپلز پارٹی سے مختلف رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر معاشی پالیسیاں بنائیں اور ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھیں ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی گزشتہ پانچ سالوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اس وقت ملکی شرح نمو5.8فیصد تک پہنچ چکی ہے اور عوام کی آمدن میں ایک سال میں 25سو ارب روزانہ اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ اگلے سال یہ شرح 6.2 فیصد تک پہنچ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ہمیں بہت سی چیزوں کو مزید بہتر کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کہ حکومت نے ایک جانب تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں کمی کی ہے۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین کا سب سے زیادہ فائدہ ان شہروں کے غریب عوم کو پہنچتا ہے اسی طرح سڑکوں کی تعمیر سے بی ملک کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کے مسائل کم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے زراعت کے لئے قرضوں پر سود کی شرح کو کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر اس کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ اس وقت ملک میں عام قرضے سات فیصد جبکہ زراعت سے وابستہ کسانوں کو چودہ فیصد مارک اپ پر قرضے ملتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت ہماری معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی ہے اور حکومت کو اس شعبے کو خصوصی توجہ دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک کے اہم منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں جس سے عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے،حکومت نے ملک سے لوڈشیڈنگ بہت زیادہ کم کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو برآمدات میں اضافے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی،اس سے بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی،ہمیں برآمدات میں اضافے کیلئے تاجروں کو سہولیات دینی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں انڈسٹری ختم ہورہی ہے،ہمیں چھوٹے تاجروں کو سہولیات دینی ہوں گی،اس وقت ملک میں55ارب ڈالر کی درآمدات ہورہی ہیں،اسپر ٹیکس چھوٹ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ3سالوں سے ہم یہ مطالبہ کر رہے ہیں مگر اسپر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سستی بجلی کے حصول کیلئے ہمیں نئے ڈیمز بنانے ہوں گے ملک میں پانی کے ذخائر بڑھانے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز کی ضرورت ہے۔۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی اسد عمر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان کی معیشت اسی جگہ پر رکی ہوئی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پبلک سیکٹر کی کمپنیاں ہیں اور جو زرداری کے دور میں400ارب روپے کے قرضے تھے مگر موجودہ دور میں12سو ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور اس کو کس طرح واپس کرنا ہے،اس کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سابقہ حکومتوں پر الزامات لگائے اور480ارب روپے کے گردشی قرضوں کو ختم کرنے کیلئے آڈٹ کو بالائے طارق رکھا مگر اس وقت یہ گردشی قرضے 500ارب تک پہنچ چکے ہیں،جس کا معیشت کی کتاب میں کوئی ذکر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کے ری بیٹ اور ری فنڈ ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اس پر عمل نہ ہوا اور یہ تمام خسارہ2200ارب روپے کا ہے جس کا بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ یہ رقوم کس طرح ادا کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے معاشی سروے کے مطابق بجلی کی پیداوار میں صرف1.45فیصد اضافہ ہوا اور ان حالات میں صنعتوں کی ترقی کیسے ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگلے سال کے اہداف میں معیشت کی ترقی 6فیصد سے زائد رکھی تھی اب آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی4.6فیصد تک رہے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس رقم کی شدید کمی ہے،،پاکستان کا ٹیکس کا نظام استحصالی اور طبقاتی ہے اس سے امیر مزید امیر جبکہ غریب مزید غربت کی طرف جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں براہ راست ٹیکس گزشتہ 10سالوں میں 1.8فیصد سے کم ہوکر1.3فیصد ہوگیا ہے جبکہ بالاواسطہ ٹیکس10.3فیصد تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت چینی کی درآمدات پر ایک کلوچینی پر19روپے ٹیکس ادا کیا جارہا ہے۔دودھ کے پاؤڈر پر45فیصد ٹیکس عائد ہے حکومت نے کھانا پکانے کے تیل پر درآمدی ڈیوٹی پر30فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور ہر لٹر پرمزید5روپے ادا کرنے ہوں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ میڈیا کے مطابق شیخوپورہ کے ایک ایم این اے کو فائدہ پہنچانے کیلئے تیل کی درآمد پر ٹیکس لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اندر پٹرولیم لیوی کو بڑھا کر30روپے فی لیٹر کردیاگیا ہے اور اس میں 20روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اندر پاکستا کے طاقتور طبقے کو پیغام دیاگیا ہے کہ اگر ملک سے چوری کی ہے ،منی لانڈرنگ کی ہے،ملک کی دولت لوٹ کر پیسہ باہر منتقل کیا ہو لندن اور دبئی میں کاروبار اور محلات بنائے ہوں تو فکر نہ کریں اور صرف2فیصد ٹیکس دو اور تمہارے سارے گناہ معاف ہیں،ہم یہ استحصالی نظام نہیں چلنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف برسراقتدار اکر طاقتور سے ٹیکس لے گی اور غریب عوام پر خرچ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی عجیب وغریب بزنس دوست حکومت ہے ملک گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سرمایہ کاری کی شرح5.5فیصد رہی ہے جو پچھلی50سالوں میں کسی بھی حکومت میں سب سے کم سرمایہ کاری ہے ملک میں اس سال صرف9.8فیصد سرمایہ کاری ہوئی ہے،،اقتصادی راہداری کی کہانیاں سنانے کے باوجود حکومت پاکستان کے تاجر بزنس مین،صنعت کار کا اعتماد بحال نہیں کرسکی کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ حکمران خاندان ملک سے باہر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ پوری دنیا میں معیشت کا مقابلہ ہے ،،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ پاکستان کی جو اس سال کی برآمدات 5سالوں سے کم ہے،اس کی وجہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں،ورلڈ بنک کی بزنس رینکنگ میں پاکستان107ویں نمبر پر تھا اور5سالوں کے بعد پاکستان147 نمبر پر چلاگیا پورے خطے میں سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان کا صنعت کار اور تاجر خرید رہا ہے،حکومت نے کسانوں ،تاجروں کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے ہیں جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ جو20ارب ڈالر تھا اب وہ40ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3سالوں سے وارننگ دے رہے ہیں کہ اس نے نہ صرف معاشی مشکلات بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ1998ء سے 2009ء تک 10سال میں 3ہزار ارب کا اضافہ 5سالوں میں10ہزار ارب قرضوں کا اضافہ ہوا،میاں نوازشریف کے 5سالہ دور میں12ہزار ارب قرضوں کا اضافہ ہوا۔ملک کے بیرونی قرضی1998ء سی2008ء تک 10سالوں میں 5ارب ڈالر تھے۔۔زرداری حکموت میں17 ارب ڈالر کا اضافہ پھر میاں صاحب کے دور میں 5سالوں کے اندر33ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کا اضافہ ہوا ہے،اس وجہ سے ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر گرتے جارہے ہیں ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ قرضے لیکر ذخائر نہ بڑھائیں،آج ذخائر10.9ارب ڈالر ہیں اور تیزی سے گر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی صورتحال پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستان کو ملنے والے قرضوں کی شرائط قومی سلامتی پر دی جارہی ہے۔۔اسد عمر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے مگر5سال گزرنے کے باوجود بجلی کا شارٹ فال7ہزار میگاواٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جو بجلی بنا رہی ہے وہ کہاں جارہی ہے اس کا پتہ لگائیں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے نوجوانوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے،یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح9.1فیصد تک بڑھ گئی ہے جبکہ سب سے زیادہ حالات فاٹا کے خراب ہیں اور فاٹا کے نوجوانوں کی ذمہ داری براہ راست وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو جواب کون دے گا اس وقت پاکستان کے 20لاکھ نوجوان ہر سال بے روزگار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت ملک کوترقی کی راہ پر گامزن کر ے گی۔۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی2 تہائی آبادی زراعت سے وابستہ ہے،معاشی سروے کے مطابق گزشتہ 5سالوں کے دوران زراعت کی ترقی گزشتہ50سالوں سے کم ہے۔حکومت زرعی تحقیق میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے،،پانی کے ذخائر نہیں بنائے جارہے ہیں۔ملک کے کسانوں کو مہنگے شرح سود پر قرضے دئیے جارہے ہیں،ہمارا مطالبہ ہے کہ کسانوں کو کم شرح سود پر قرضے دئیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں صحت کی سہولیات ناگفتہ بہ ہے ،،اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش ہے،30سی40 سالوں سے اسلام آباد میں کوئی نیا ہسپتال نہیں بنا ہے،،تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ والدین بچوں کے داخلے کیلئے دربدر پھر رہے ہیں،سکولوں میں ٹیچروں کی شدید کمی ہے مگر بدقسمتی سے ہزاروں ڈیلی ویجز مرد وخواتین ٹیچرز سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت ہے،،اسلام آباد کیلئے پانی کی فراہمی کے فوری اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے بہت سارے علاقوں میں بجلی اور گیس کی سہولیات نہیں ہیں،اس کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی تعمیر کیلئے زمینیں دینے والوں کو ابھی تک ان کا جائزہ معاوضہ نہیں دیا گیا ہے اور وہ ابھی تک دھکے کھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جی13 اور جی14 کی حالت زار بہت خراب ہے،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں یہ سب ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی ذمہ داری ہے۔جے یو آئی کی خاتون رکن نعیمہ کشور خان نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ بہتر ہے،حکومت کو زرعی شعبے کو خصوصی توجہ دینی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ ملک میں اسلامی بنکاری کو فروغ دیا جائے اور سود سے پاک نظام رائج کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بلاسود زرعی قرضے دئیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کی ترقیاتی بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے،اس میں کمی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قرآن پاک کے ضعیف نسخوں کو ری سائیکل کرنے کیلئے پلانٹ لگائے جائیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

نعیمہ کشور نے کہا کہ ملک میں بے نظیر انکم سپورٹ کے جعلی فارم فروخت ہورہے ہیں ملک میں خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں،ملک میں توانائی کے شعبے میں اقدامات ہونے چاہئیں،ملک کے نوجوانوں اور خواتین کو بہتر روزگار فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔۔بجٹ پر بحث میں ایم کیو ایم اور اقلیتی اراکین نے بھی حصہ لیتے ہوئے حکومت پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔۔قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کے روز ساڑھی10 بجے تک ملتوی کردیاگیا۔