ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے خون سے حریت پسندی کا چراغ روشن رکھا،غلامی کی زندگی پر آزادی کی موت کو ترجیح دی،وفیسر محمد یوسف عرفان ن

جمعرات مئی 21:04

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے خون سے حریت پسندی کا چراغ روشن رکھااور غلامی کی زندگی پر آزادی کی موت کو ترجیح دی۔ علامہ محمد اقبالؒ کو ٹیپو سلطان سے بڑی عقیدت تھی۔ وہ ایک بہادر سپاہی ، بہترین حکمران، تجربہ کار سیاستدان اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل عوام دوست رہنما تھے۔ ہمیں ٹیپو سلطان شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیرت مندوں کی طرح زندگی بسر کرنی چاہئے۔

انہوںنے اپنے طرز عمل سے ہمیں ایک راہ دکھائی کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نئی نسل اسلاف کے کارناموں کا مطالعہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد یوسف عرفان نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان،، لاہور میںشیر میسور ‘عظیم مسلم فاتح سلطان فتح علی ٹیپو شہیدؒ کے 219 ویں یومِ شہادت کے موقع پر نئی نسل کو ان کی حیات و خدمات سے آگاہ کرنے کیلئے منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

لیکچر کا اہتمام نظریہٴ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔نظامت کے فرائض پروفیسر سید عابد حسین شاہ نے انجام دیئے۔پروفیسر محمد یوسف عرفان نے کہا کہ ٹیپو سلطانؒ مسلمانان ہند کی ملی تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ان کی پوری زندگی جرأت و بیباکی کی علامت ہے ۔ ٹیپو سلطان کی شجاعت اور جواں مردی نے انگریزوں کو لرزہ بر اندام کر دیا تھا۔

انہوں نے حریت ِفکر، آزادئ وطن اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان نچھاور کردی ۔ ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا ۔انہوں نے کہاکہ سلطان ٹیپوؒ کو بچپن سے ہی شمشیرزنی اور فن حرب کی تعلیم دی گئی اور انہوں نے نازو نعم میں پلنے کی بجائے شیروں سے پنجہ آزمائی کو اپنا وطیرہ بنایا ۔

وہ اپنے سارے دور حکومت اور آخری سانس تک شیر ہی رہے۔ سلطان ٹیپوؒ نے ا پنے والد کے انتقال کے بعد امور سلطنت سنبھالے۔ میسور کے آخری محاصرہ سرنگا پٹم کے دوران جب انگریزوں کی گولہ باری سے قلعہ میں شگاف پڑ گیا تو سلطان ٹیپو اپنی نگرانی میں اسے پر کراتے رہے ۔اسی دوران جب سلطان ٹیپوؒ کھانا کھانے گئے تو غداروں نے ایک چال کے ذریعے وہاں تعینات تمام سپاہیوں کو تنخواہ لینے کے بہانے وہاں سے ہٹا دیا اور انگریزوں کے لئے محاذ کھلا چھوڑ کر انہیں اطلاع بھی کر دی۔

انگریز فوج کا دستہ قلعے میں داخل ہوا تو لوگوں نے سلطان ٹیپو شہیدؒ سے کہا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائیں لیکن اس موقع پر سلطان فتح محمد ٹیپوؒ نے تاریخی جملہ کہا کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ اس نے انگریز فوج کا انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا اور شہادت کی موت کو ترجیح دی ۔ ٹیپوسلطان کا یہ قول غیرت مند اور حمیت پسندوں کے لیے قیامت تک مشعل راہ بنا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کے شاندار کارناموں سے آگہی حاصل کرے ۔