فنانس بل 2018 کے ذریعے کسٹمز ایکٹ میں ترامیم تاجر برادری کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے،انجینئرعبدالفتاح شیخ

جمعرات مئی 21:13

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سکھر ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر انجینئرعبدالفتاح شیخ نے ٹرانس شپمنٹ رولز میں ردو بدل کو دستاویزی معیشت کیلئے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فنانس بل 2018 کے ذریعے کسٹمز ایکٹ میں ترامیم تاجر برادری کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔درآمد کنندگان درآمدہ مال پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی سے حکومت کے محصولات بڑھانے میں تعاون کرتے ہیںجبکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کا مال اپنی منزل تک پہنچنے کی بجائے پاکستان میں ہی اُتار لیا جاتا ہے جس پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کئے بغیر وہ مال مارکیٹ میں فروخت کیلئے آجاتا ہے یہ رِیت طے شدہ طریقہ ئِ کار سے منگوائے گئے سامانِ تجارت کی فروخت میں بڑی رکاوٹ بنتی رہی ہے تاجر برادری کا مطالبہ رہا ہے کہ غیر مصدقہ طریقہ ئِ کار کے تحت درآمدات روکی جائیں تاکہ اندرونِ ملک مقابلے کا صحت مندانہ رجحان قائم ہوسکے اور قانون شکنی میں ملوث حلقوں کے خلاف قانونی اقدامات اختیار کئے جائیں۔

(جاری ہے)

حالیہ فنانس بل میں قوانین میں تبدیلی سے غیر قانونی درآمدات میں کمی ہوگی جبکہ قانونی ضوابط پورے کرتے ہوئے سامانِ تجارت درآمد کرنے اور ملکی خزانے میں ٹیکس جمع کروانے والے تاجروں کو صحتمندانہ مقابلے اور قیمتوں میں مناسبت سے اپنا مال بیچنے میں سہولت ہوگی جس سے نہ صرف دستاویزی تجارت فروغ پائے گی بلکہ غیر قانونی درآمدات کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی جو ملکی معیشت کیلئے مثبت نتائج کی حامل ہوگی۔اُنہوں نے وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ قوانین پر اُن کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنائے۔#

متعلقہ عنوان :