جمہوری دور کے پانچ سال مکمل ہونے جا رہے ہیں لیکن (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے قائدین کے خطاب سن کر ایسا لگتا ہے جیسے کبھی ان کا کونسلر بھی منتخب نہیں ہوا ہو،سید مصطفیٰ کمال

بلاول بھٹو زرداری نے لیاقت آباد میں جلسہ کیا وہ ان کا سیاسی حق ہے لیکن نام نہاد مہاجروں کی سیاست کرنے والوں نے جتنی آکسیجن انہیں1 جلسے میں دی اتنی وہ100 جلسے بھی کر کے حاصل نہیں کر سکتے تھے پیپلز پارٹی لیاقت آباد میں جلسہ کر رہی ہے تو ایم کیو ایم بھی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لیاری یا لاڑکانہ میں جلسہ کر کے دکھا دے، پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات مئی 22:28

جمہوری دور کے پانچ سال مکمل ہونے جا رہے ہیں لیکن (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) جمہوری دور کے پانچ سال مکمل ہونے جا رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کے خطاب سن کر ایسا لگتا ہے جیسے کبھی ان کا کونسلر بھی منتخب نہیں ہوا ہو۔ بلاول بھٹو زرداری نے لیاقت آباد میں جلسہ کیا وہ ان کا سیاسی حق ہے لیکن نام نہاد مہاجروں کی سیاست کرنے والوں نے جتنی آکسیجن انہیں1 جلسے میں دی اتنی وہ100 جلسے بھی کر کے حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

اگر پیپلز پارٹی لیاقت آباد میں جلسہ کر رہی ہے تو ایم کیو ایم بھی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لیاری یا لاڑکانہ میں جلسہ کر کے دکھا دے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی، سیکریٹری جنرل رضا ہارون، سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر صغیر احمد، وائس چیئرمین وسیم آفتاب، اشفاق منگی اور اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جلسے کے بعد لسانی بنیادوں پر سیاست شروع کر دی گئی ہے۔ نام نہاد مہاجر نمائندے کہہ رہے ہیں جاگ مہاجر جاگ، اور لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ آج یہ علاقوں میں آئے ہیں کل گھروں میں گھس جائیں گے۔ سید مصطفیٰ کمال نے سوال کیا کہ کیسے گھروں میں گھسں گی کیا ہم ان کے علاقوں میں جا کر سیاست نہیں کرتی یہی پیپلز پارٹی تھی جس کے ساتھ کئی سالوں تک سیاسی رومانس چل رہا تھا۔

جبکہ پیپلز پارٹی نے ایک ایک کر کے اس شہر کے سارے اداریایم کیو ایم سے لے لیئے۔ کراچی میں آج مہاجروں کے شناختی کارڈ نہیں بن رہے، جامعات میں گورنر سے اختیارات لے کر بیوروکریٹس کو دے دیئے گئے، شہر کراچی کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا، آج میں سوال کرتا ہوں مسائل کی بنیاد پر کتنے احتجاج کیئے گئی ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر کبھی سوئے نہیں تھے جو انہیں جاگنے کی ضرورت ہے، مہاجروں نے ایم کیو ایم والوں کو چوکیدار رکھا تھا لیکن چوکیداروں نے چوروں کے ساتھ مل کر چوری کی۔

اب ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے کہہ رہے ہیں کہ ہم مل کر جلسہ کریں گے جیسے اس سے مہاجروں کے لیے دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ فاروق ستار نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ عامر خان مہاجر قاتل اور مہاجر مقتول کی سیاست کے بانی ہیں، شہدائ کے اہل خانہ ان سے سوال کر رہے ہیں کہ مہاجروں کا قاتل ان کے ساتھ کیوں ہے نیز ایم کیو ایم کے نائن زیرو پر چھاپہ بھی عامر خان نے لگوایا جس میں متعدد کارکنان گرفتار ہوئے۔

میئر کراچی بقول فاروق ستار کے 5.75ارب روپے کہا گئے اور حساب نہیں دے رہے۔ جبکہ دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ فاروق ستار اب ہماری ماں بہنوں کی طرف نہ دیکھیں آنکھیں نکال لیں گے اور پارٹی میں اب ماہ جبینوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے سوال کیا کہ کیا شہدائ اور اسیروں کے اہل خانہ نے عامر خان کو معاف کر دیا کیا جو فاروق ستار وہاں چلے گئی اور خالد مقبول صدیقی کیا فاروق ستار سے ماں بہنوں کے لیے پردے کا اہتمام کریں گی انہوں نے کہا کہ دراصل ان لوگوں کو ڈر پیپلز پارٹی کا نہیں ہمارا ہے کیوں کہ ہم نے ان کی فرسودہ سیاست کو دفنا دیا ہے اور نفرتوں کا خاتمہ کر کے سب کو ایک کر دیا ہے۔

ہماری دنیاوی شناخت اس دنیا تک کی ہے جب ہم مریں گے تو امت مسلمہ کی حیثیت سے قبر میں اتارے جائیں گے۔ اپنی سیاست یا دنیاوی فائدے کیلئے لوگوں میں تفرقات پیدا نہیں کریں گے۔ مہاجروں کی 70 لاکھ آبادی کم کر دی گئی، اسپتالوں میں دوائیں نہیں ہیں، اسکولوں میں تعلیم نہیں ہے، کیا ایک جلسے سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے ان پر کوئی مہاجر نیتا بات نہیں کر رہا۔

کروڑوں روپیہ لگا کر یہ لوگ جو جلسہ کرنے جا رہے ہیں وہ پیسہ اگر شہیدوں کے اہل خانہ کو دے دیں تو تین تین ماہ کا راشن آجائے گا۔ اسیروں کی ضمانت کے لئے رقم مہیا ہو سکتی ہے لیکن یہ لوگ اپنی مردہ سیاست کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے جلسوں کی سیاست کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھی اور ایم کیو ایم مہاجرکارڈ استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ان کے پاس عوام کے سامنے رکھنے کے لیے کچھ نہیں لیکن اس بار یہ اس میں بری طرح ناکام ہونگے۔

لوگوں کو پھر سے کہہ رہے ہیں کہ یہ تمھارے گھروں میں گس جائیں گے تو ان کا مطلب ہے کہ لڑائی کی تیاری کرو جیسے الطاف حسین کہا کرتے تھے اور بعد میں اگر لڑکا پکڑا جائے گا تو اسے اوون نہیں کریں گے جیسے صولت مرزا کونہیں کیا تھااور مر گیا تو دھوم دھام سے جنازہ پڑھا کر ہر سال عید پر 3 ہزار روپے بھجوا دیئے جائیں گے۔ کہتے ہیں ایم کیو ایم ہمارا رومانس ہے لیکن مجھے صرف ایک ایسی ماں دکھائیں جس کا بچہ غائب ہو اور وہ کہے کہ ایم کیو ایم میرا رومانس ہے۔ ایم کیو ایم صرف ان کا رومانس ہے جو دن میں سیاسی پارٹی اور رات میں کوکین پارٹی کرتے ہیں۔#