بی آئی ایس پی اور ڈبلیو ایف پی کے مابین پاکستان میں تعلیم،غذائی قلت اور مائیکرونیوٹرنٹ کی کمی کے حوالے سے لاگت کیلئے مطالعہ پر عملدرآمد کیلئے معاہدے پر دستخط

جمعرات مئی 22:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) بی آئی ایس پی اور ڈبلیو ایف پی کے مابین پاکستان میں تعلیم،،غذائی قلت اور مائیکرونیوٹرنٹ کی کمی کے حوالے سے لاگت کیلئے مطالعہ پر عملدرآمد کیلئے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی ماروی میمن اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عمر حمید خان نے اس تقریب میں شرکت کی۔ مطالعہ کا دورانیہ تین سے چھ ماہ ہوگا جس پر چودہ ہزار امریکی ڈالر کی لاگت متوقع ہے۔

مطالعہ کا تحقیقی طریقہ کار متعلقہ ضروریات اور موجودہ غذائی قلت کے خلاء کا تخمینہ لگائے گا تاکہ اس پا قابو پایا جاسکے۔ تخمینے کے عمل میں تشخیصی مسائل، پالیسی کے عوامل کاتجزیہ، کوریج گیپس کی کوانٹیفیکیشن اور ہر انٹروینشن کی فی کس لاگت شامل ہوگی۔

(جاری ہے)

یہاں یہ تذکر ہ کرنا ضروری ہے کہ نیشنل نیوٹریشن سروے (NNS) 2001، کے مطابق پاکستان میں غذائی قلت کی شرح خطرناک ہے 43.7%بچے ذہنی و جسمانی نشونما میں کمی سے متعلق بیماریوں میں مبتلا ہیں، 31.5%بچوں کے وزن کم ہیں اور 15.1%بچے ضائع کئے گئے ہیں۔

بی آئی ایس پی اس ٹیکنیکل ورکنگ گروپ(TWG) کے حصہ کے طور پر مطالعہ کے عملدرآمد میں مدد دے گا۔ بی آئی ایس پی حتمی رپورٹ کو وسیع پیمانے پر اسٹیک ہولڈرز تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ڈبلیو ایف پی ٹیم کی قومی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر رہنمائی بھی کرے گا۔