لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنانے اور زیرو لوڈشیڈنگ کے دعویدار منہ چھپاتے پھر رہے ہیں‘میاں مقصود احمد

حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی،حکمرانوں نے بجلی پیداکرنے کے منصوبوں کوبروقت مکمل کیاہوتاتوملک میں لوڈشیڈنگ نہ ہوتی‘صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب وامیرجماعت اسلامی پنجاب کا تقریبات سے خطاب

جمعرات مئی 23:00

لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنانے اور زیرو لوڈشیڈنگ کے دعویدار منہ چھپاتے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب اورامیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیی2018کی تاریخیں دینے والے اور چند دن قبل زیرولوڈشیڈنگ کے دعویدار حکمران آج شہروں اور دیہاتوں میں بدترین لوڈشیڈنگ پر شرم کے مارے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور شہروں میں6سی10گھنٹے جبکہ دیہات میں16گھنٹوں تک بجلی غائب رہتی ہے،،گرمی کے آغاز میں ہی 5ہزار میگاواٹ تک شارٹ فال کاپہنچنااس بات کاواضح ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہورمیں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ گرمی بڑھتے ہی توانائی کا بحران بے قابو ہوچکا ہے۔اگر حکمرانوں نے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے سنجیدگی کامظاہرہ کیاہوتااورہوا،،پانی،،کوئلے سے بجلی پیداکرنے کے منصوبوں کوبروقت مکمل کرلیا ہوتاتوآج ملک میں لوڈشیڈنگ نہ ہوتی ۔المیہ یہ ہے کہ حکمران مسلسل جھوٹ بول کر عوام کو بے وقوف بناتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل سے نوازاہے مگرمحب وطن قیادت کے فقدان نے ملک وقوم کو اس نہج پر پہنچادیا ہے کہ آج ہم میں سے ہر پاکستانی عالمی بنک سمیت دیگربین الاقوامی مالیاتی اداروں کامقروض ہے۔۔پاکستان میں پیداہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے کامقروض ہوکرپیداہوتاہے۔

شرمناک پہلوتو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں قرض لینے کے باوجودموجودہ حکمرانوں نے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیرازحدضروری ہے۔کالاباغ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت8ملین ایکڑ فٹ ہے، اس سی36سومیگاواٹ سستی بجلی پیداہوسکتی ہے اور65لاکھ ایکڑبنجرزمین کوقابل کاشت بنایاجاسکتا ہے۔افسوس ناک امر تویہ ہے کہ اس قومی منصوبے کو سیاست کی نذر کردیا گیاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی بحران کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں۔