صحافیوں پر تشدد،چیئرمین سینیٹ نے وزراء داخلہ و اطلاعات کو (کل) ایوان میں طلب کرلیا

جمہوریت اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ،ملک کیلئے صحافیوں کی قربانیاں لازوال ہیں،حکومت ایوان کو حقائق سے آگاہ کرے، شیری رحمن صحافت کی آزادی جمہوریت کی ضمانت ، صحافیوں پر تشدد برداشت نہیں،راجہ ظفر الحق/ صحافت اور جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کونے والے ہاتھوں کا روکنا ہوگا، پرویز رشید صحافت کے عالمی دن پر تشددہونا ساز ش ہے،اعظم سواتی/ تشدد کر کے آئین کی خلاف ورزی کی گئی،سسی پلیجو/ایسا تو آمریت میں بھی نہیں ہوتا،فیصل جاوید

جمعرات مئی 23:00

صحافیوں پر تشدد،چیئرمین سینیٹ نے وزراء داخلہ و اطلاعات کو (کل) ایوان ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے صحافیوں پر تشدد کے خلاف وضاحت کیلئے وزراء داخلہ و اطلاعات کو وضاحت کیلئے کل ایوان میں طلب کرلیا۔جمعرات کو اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے پولیس کی جانب سے تشدد کا معاملہ اٹھایا، انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میںآج اظہار رائے کی آزادی کا دن منایا جارہا ہے مگر پولیس نے اسلام آباد میں صحافیوں کر تشدد کر کے اظہار رائے پر حملہ کیا،اس پر تمام اپوزیشن اور ذاتی حیثیت سے مذمت کرتی ہوں، صحافیوں نے ملک میں جمہوریت کیلئے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، جمہوریت اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہیں،ملک کیلئے صحافیوں کی قربانیاں لازوال ہیں،حکومت ایوان کو تمام تر حقائق سے آگاہ کریں۔

قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق نے کہا کہ صحافت کی آزادی کے بغیر جمہوریت کی ترقی ممکن نہیں، صحافیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں،تمام تر حقائق سے ایوان کو آگاہ کیا جائے گا،،مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ صحافیوں پر حملہ جمہوریت پر حملہ ہے، پاکستان کی صحافت اور جمہوریت کو ختم کرنے والے ہاتھوں کو روکنا ہوگا،آج اداروں کی توہین ، اداروں کے خلاف نفرت آمیزاور دھمکی آمیز تقاریر تو براہ راست نشر کی جاتی ہیں مگر عام آدمی کی بات کرنے والے کی تقاریر سنسر کی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر صحافیوں پر تشدد ہونا افسوس ناک ہے، یہ ساز ش سے کم نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ آج صحافیوں پر حملہ کرنے والوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، آئین کے آرٹیکل19 ہر شہری کو اظہار را ئے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے،صحافیوں کا تعلق جس علاقے سے ہو، جو زبان بولنے والا ہو اس پر تشدد قابل مذمت ہیں۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ کہ قلم پر حملہ ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیئں۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے، ایسا تو آمریت میں بھی نہیں ہوتا۔ سینیٹر فیض محمد نے کہا کہ صحافت پر حملہ مظلوموں کی آواز پر حملہ ہے،،پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں پر تشدد قابل مزمت ہیں، اس شعبہ میں خواتین کو درکنار مردوں کیلئے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے،انہوں نے سپیکر کو وزیر اطلاعات کو طلب کر کے ایوان کو آگاہ کرنے کی درخواست کی جس پر چیئرمین سینیٹ نے وزراء داخلہ و اطلاعات و نشریات کو آج سینیٹ میں طلب کر لیا۔

قبل ازیں صحافیوں پر تشدد کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آئوٹ کیا،سینیٹر مشاہد اللہ کی قیادت میں وفد سے بات چیت کے بعد صحافیوں نے واک آئوٹ ختم کردیا۔