پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور پی ٹی آئی کے رکن آصف محمود کے درمیان تلخ کلامی،مائیک بند کرنے پر اپوزیشن رکن آگ بگولہ ہو گئے

جمعرات مئی 23:00

پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور پی ٹی آئی کے رکن آصف محمود کے درمیان تلخ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر اور پی ٹی آئی کے رکن آصف محمود کے درمیان تلخ کلامی،مائیک بند کرنے پر اپوزیشن رکن آگ بگولہ ہو گئے ،محکمہ مال کی پارلیمانی سیکرٹری چوتھی بار بھی سوالوں کے جوابات دینے کے لئے ایوان میں نہ آئیں،مجبورا! محکمہ مال کے سوالوں کے جوابات چوہدری شیر علی نے دیئے،،جماعت اسلامی نے ہربنس پورہ لاہور سمیت پنجاب بھر کی کچی آبادیوں کو فوری مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ کردیا،کورم کی نشاندہی پر اجلاس آ ج ( جمعہ ) تک ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی اپنے مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ چوبیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال خاں کی زیر صدارت شروع ہوا ۔اجلاس میں محکمہ مال اور زراعت کے بارے میں سوالوں کے جوابات دیئے جانے تھے مگر محکمہ مال کے وزیر ایوان میں موجود تھے اور نہ ہی پارلیمانی سیکرٹری حاضر تھیں، پارلیمانی سیکرٹری نازیہ راحیل مسلسل چوتھی بار ایوان میں سوالوں کے جوابات دینے کے لئے نہیں آئیںجس کی وجہ سے ان کی جگہ انکے محکمے کے بارے میں سوالوں کے جوابات صوبائی وزیر چوہدری شیر علی کو دینے پڑے۔

(جاری ہے)

جبکہ وزیر زراعت نعیم بھابھہ بھی موجود نہیں تھے جن کے سوالات سپیکر نے آج (جمعہ ) تک کے لئے مو خر کر دیئے اور ہدایت کی کہ منسٹر ایوان میں حاضر ہوں۔۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن آصف محمود سیکرٹر ی اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن اراکین کے ساتھ نارواسلوک رکھنے کیخلاف نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن سپیکر نے انہیں اجازت نہ دی۔

سپیکر رانامحمد اقبال نے کہا کہ تمام ا راکین اسمبلی میرے لئے محترم ہیں لیکن اسمبلی سٹاف بھی قابل عزت ہے۔میں ان کیخلاف کوئی بات نہیں سنوں گا جو بات کرنی ہے میرے چیمبر میں آ کر کریں۔ آپ اس معاملے پر یہاں بات نہ کریں جبکہ ٹیلی فون پر آپ کی طرف سے بد تمیزی کرنے کے باوجود انہوں نے آپ سے میرے کہنے پرمعافی مانگی ۔سپیکر نے ان کا مائیک بند کروادیا۔

جس پر آصف محمود آگ بگولہ ہو گئے انہوںنے چیئر کو جارحانہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے ڈکٹیشن لے کر بات نہیں کرونگانہ ہی میں آپ کا ملازم ہوں ہم عوام کے منتخب نمائندے ہیںیہاں عوام کے مسائل کی بات کرنے آتے ہیں۔ حکومتی رکن ڈاکٹر فرزانہ نذیر نے کہا کہ اپوزیشن والوں کو گفتگو کرنے کا طریقہ سکھایا جائے یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا ۔

بعدازاں اپوزیشن رکن میاں اسلم اقبال نے آصف محمود کو نشست پر بیٹھا دیا ،سپیکر نے ان کو اپنے چیمبر میں بلا لیا۔میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ہمارے پاس عوامی مسائل کے لئے بات کرنے کا یہی ایک فورم ہے یہاں ہماری بات نہیں سنی جائے گی تو ہم کہاں جائیں گے،ہمارا ذاتی تو کوئی مسئلہ نہیں۔اسپیکر نے کہا کہ ان کا مسئلہ کمیٹی کے سپرد ہوا اور اس کمیٹی کے چیئر میں بھی آ پ کی پارٹی کے ڈاکٹر مراد راس ہیں،انہوں نے فون پر سیکرٹری اسمبلی سے بہت کچھ کہا لیکن پھر بھی میرے کہنے پر انہوں نے ان سے معذرت کی ۔

قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی پی آر پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بیس ملازمین کو زبردستی معطل کردیا ہے بعد میں ان ملازمین نے احتجاج کیا اور ان کے سر بھی پھاڑ دیئے گئے اب مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے لہٰذا معطل ملازمین کو فوری بحال کیا جائے اور اس ڈپٹی ڈائریکٹر کیخلاف فوری محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور طاہر خلیل سندھو نے معاملے کی جلد انکوائری کرانے کی یقین دہانی کرادی۔ رکن اسمبلی آصف محمود نے ایک بار پھر نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے حکم پر تمام لوگوں سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے بتایا جائے کہ اوکاڑہ کی ایک خاتون جو کہ نجم سیٹھی کی بیوی بتائی جاتی ہے اسے کس حیثیت میں سرکاری سکیورٹی دی گئی ہی ۔بعد ازاں پی ٹی آئی کی رکن آصف محمود نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر سپیکر نے پہلے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی لیکن پانچ منٹ بعد بھی کورم پورا نہ ہوا تو سپیکر نے اجلاس آج صبح نو بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔