صحافی تنظیموں کی گول میزکانفرنس،سیاسی جماعتوں کے منشورمیں آزادی صحافت اور صحافیوں کی تحفظ کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات پیش

سید خورشید شاہ نے نیشنل پریس کلب کے یادگار شہد ا پرحاضری دی اور پھول چڑھائے میڈیاکی آزادی کو ہمیشہ ڈکٹیٹروں اور نیم ڈکٹیٹروں نے دبانے کی کوشش کی ، صحافیوں کو برقت معاوضہ ملنا چاہئے، الیکشن وقت پر ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں،عمران خان کو خواب میں وزارت عظمیٰ کی کرسی نظر آتی ہے، نوازشریف جیل میں ہو یا باہر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا،اپوزیشن لیڈر کاخطاب

جمعرات مئی 23:02

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) نیشنل پریس کلب اسلام آباد، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آبادیونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام 3مئی عالمی یوم آزادی کی مناسبت سے این پی سی اسلام آبادمیں گول میز کانفرنس بعنوان ’’صحافیوں کو درپیش جانی و معاشی خطرات اور سیاسی جماعتوں کا منشور‘‘ منعقد کیا گیا تھا۔

گو مل میز کانفر نس میں صحافیوں نے سیاسی جماعتوں کے منشورمیں آزادی صحافت اور صحافیوں کی تحفظ کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات پیش گئے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نیشنل پریس کلب کے یادگار شہد ا پرحاضری دی اور پھول بھی چڑھاد یئے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پی ایف یو جے کا آزادی صحافت کے لئے کردار تاریخ ساز ہے پارلیمنٹ میں الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے آنے والے بل کی بھر پور حمایت کریں گے ان کا کہنا تھاکہ میڈیاکی آزادی کو ہمیشہ ڈکٹیٹروں اور نیم ڈکٹیٹروں نے دبانے کی کوشش کی ہے میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں کو برقت معاوضہ ملنا چاہئے، ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن وقت پر ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، عمران خان کو خواب میں وزارت عظمیٰ کی کرسی نظر آتی ہے، نوازشریف جیل میں ہو یا باہر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

(جاری ہے)

جمعرات کے رو ز نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے منعقدہ سیمینارمیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ، نیشنل پریس کلب کے صدر طارق محمود چوہدری، سیکرٹری این پی سی شکیل انجم،آر آئی یو جے صدر مبارک زیب، اے آر وائی کے اینکر پر سن ارشد شریف،عامر وسیم ڈیلی ڈان بیورچیف، زمیر حیدر،شہزادہ،شفیع الدین، سیکرٹری آرآئی یو جے علی رضا علوی،آر آئی یو جے کے فنا نس سیکرٹر ی اصغر چوہدری سمیت دیگر صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کیں۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہاکہ 16 سال کی طویل جدوجہد اٹھویں ویج بورڈ کی منظوری کے بعد ویج بورڈ کا پہلا اجلاس آج ہوا۔ان کا کہناتھا کہ اٹھویں ویج بورڈکی منظور ی پوری صحافتی کمیونٹی کے لئے خوش آئندبات ہیں۔۔اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان 10ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر صحافیوں کی جان اور معاشی صورتحال بدحالی کا شکار ہے۔

آر آئی یو جے صدر مبارک زیب نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سند ھ میں سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔دوسرے نمبر بلوچستا ن تیسرے نمبر پر خیبر پختونخوااور آخری نمبر پرپنجاب آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارلحکومت جیسے پر امن شہر میں بھی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔مبار ک زیب نے سیاسی جماعتوں کی منشورمیں پریڈم آ ف پریس کے حوالے سے شرکائ صحافیوں کے تجاویز لئے۔

ارشد شریف نے کہا کہ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے کا کردار بہت اہم ہے صحافتی تنظیموں کو آفس میں تفروقوں کے بجائے اتحاد کا مظاہر ہ کرنا چاہئے۔ان کاکہنا تھاکہ پریس فریڈم کی خلاف ورزیوں کے خلاف اور پریس پریڈیم میں ڈالنے والوں کے خلاف رپورٹس شائع کرنے چاہئے۔زمیر حیدر کا کہنا تھاکہ آزادی صحافت خود ہمارے ہاتھوں سے نکلتی جارہی ہے صحافیوں کی حقوق کے حوالے قوانین موجود ہیں ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہیں۔

شفیع الدین کا کہناتھا کہ ایک اسلامی جماعت کی اخبار کا کیس ان کے پاس آیاجس میں ملازمین کو کام 18سال کام کرنے کے باوجود بھرتی کے حکم نامے نہیں دیئے گئے تھے۔میڈیا میں صحافی کام ضرور کرتے ہیں لیکن خبر کی جانچ پڑتا ل مالکا ن کرتے ہیں ان کا کہنا تھاکہ صحافت کے اند ر گرائمر آگیا اصولوں کا صحافت بن گیا۔قوانین موجو د ہیں صحافی اپنے معاملات سے بے خبر ہیں۔

سیکرٹری این پی سی شکیل انجم نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے پریس کلب کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کریں گے۔پریس کلب میں ریڈیو کے لائسنس کے لئے اپلائی کی تھی جو کہ حکومتی اور اپوزیشن کی سازشوں کی نظر ہوگئی۔ انہوں نے صحافیوں کو خوشخبری دیتے ہوئے کہاکہ پریس کلب اپنا ویب ٹی وی لانچ کررہا ہے جس کے ذریعے صحافیوں کی آواز کو حکام بالا تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچایا جائے گا۔