سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کااجلاس،عالمی یوم آزادی صحافت پر صحافیوں کی جدوجہد کو خراج تحسین

نصیر آباد میں سیلاب سے تباہ ہونے والی سڑکوں کی مرمتی کیلئے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،کوہاٹ ، سرائے گھمبیلا ، کوہاٹ جنڈ موٹر وے منصوبوں پر کام جلد شروع ہوگا ، گوادر یونیورسٹی کیلئے صوبائی حکومت نے زمین فراہم کر دی ہے،این ایچ اے حکام

جمعرات مئی 23:14

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) ء سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کے چیئرمین سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں عالمی یوم آزادی صحافت پر کمیٹی نے صحافیوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ حکام این ایچ اے نے بتایا کہ نصیر آباد میں سیلاب سے تباہ ہونے والی سڑکوں کی مرمتی کیلئے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کوہاٹ ، سرائے گھمبیلا ، کوہاٹ جنڈ موٹر وے منصوبوں پر کام جلد شروع ہوگا ۔ پاک چین اقتصادی راہدای کے منصوبہ جات شروع ہیں ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ گوادر یونیورسٹی کیلئے صوبائی حکومت نے زمین فراہم کر دی ہے ۔ فیزبلیٹی تیار ہے ، چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبہ جات میں تیزی لائی جائے ، تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ، تعلیم ترجیح اول ہونی چاہیے ۔

(جاری ہے)

2014 میں بنائے جانے والے ہسپتالوں پر عملدرآمد جلد کیا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سینیٹ ضابطہ کار میں ترمیم کے بعد تمام وزارتیں یکم جنوری تک وزارت منصوبہ بندی کو سفارشات بجھوانے کی پابند ہیں ۔ چیئرمین سینیٹ کی طرف سے سینیٹ ہال کی تزین و آرائش اور چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہ کی تعمیر و مرمت پر وزارت منصوبہ بندی حکام نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی جاری ہوچکا ہے لیکن دونوں سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

چیئرمین کمیٹی کا رتو ڈیرو اورخضدار روڈ کی تاخیر پر ناراضگی جلد مکمل کرنے کی ہدایت۔کمیٹی نے سینیٹر شبلی فراز کی یونیورسٹیوں میں میتھمیٹیکل سائنسز کے شعبہ جات کے قیام ، سینیٹر ثنا جمالی کی کوئٹہ میڑو بس پراجیکٹ ، سینیٹر میر کبیر کے پچھلے سال وزارت منصوبہ بندی کو بجھوائے گئے منصوبہ جات ، سینیٹر عثمان خان کاکٹر کی زیارت میں فارسٹ یونیورسٹی ،موسیٰ خیل میں لائیو سٹاک یونیورسٹی کے قیام کی سفارشات اتفاق رائے سے منظور کر لیں ۔

سینیٹر کہدہ بابر کی طرف سے بلوچستان کے طلبا کے وظائف میں اضافے کے علاوہ بلوچستان میں معیارتعلیم بلند کرنے کی سہولیات میں اضافے کی سفارش بھی منظور کر لی ۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے سفارش کی کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تکمیل ترجیح بنیاد پر مکمل کی جائے ۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ کوئٹہ میں دل اور لورالائی میں کینسر ہسپتال کا قیام کیا جائے ۔

بلوچستان میں الرجی سینٹرکا قیام کیا جائے ۔موسمیاتی تبدیلی کے لیے 10ارب کی سفارش بھی کی گئی۔۔کوئٹہ میں ایڈوانس ٹیکنالوجی ٹریننگ سینٹر کا قیام کا کیا جائے۔ڈریپ کی سرٹیفکیشن ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کے پی کے میں 11زیر تکمیل ڈیمز کے فنڈز جاری کیے جائیں۔ فاٹا کے طلباء کے وظائف میں اضافہ کیا جائے۔ بلوچستان میں ایکسپو سینٹر کا قیام کیا جائے ۔

بو سر ٹاپ ٹنل کی جلد تعمیر کی بھی سفارش کردی ۔ داسو سے رایے کوٹ تعمیرکی تعمیر،رائے کوٹ سے تھاکوٹ پاک چین اقتصادی راہداری میں شامل کر لیا گیا ہے ۔تھاکوٹ سے حویلیاں شامل ۔بسہمہ خضدار 100کلو میٹر کا اشتہار دے دیا گیا ہے۔ اجلاس میں سینیٹرز میر کبیر احمد محمد شاہی ، عثمان کاکٹر ، کہدہ بابر عسکانی ، شاہین خالد بٹ،،ڈاکٹر اسد اشرف ، رخسانہ زبیری ، گیان چند، شبلی فراز ، مظفر حسین شاہ ، کلثوم پروین کے علاوہ کے علاوہ پلاننگ ،،ریلوے ،کامرس ،موسمیاتی تبدیلی ، مواصلات اوراین ایچ اے کے حکام نے شرکت کی ۔