ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

بجٹ میں سفارشات کے علاوہ فنانس بل 2018،کسٹم ایکٹ 1969اور سیلز ٹیکس1990میں ایف بی آر کی طرف سے تجاویز کردہ ترامیم کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

جمعرات مئی 23:14

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میںسینیٹرز محمد طلحہ محمود ، دلاور خان ، خان زادہ خان اور میاں محمد عتیق شیخ کی بجٹ میں سفارشات کے علاوہ فنانس بل 2018،کسٹم ایکٹ 1969اور سیلز ٹیکس1990میں ایف بی آر کی طرف سے تجاویز کردہ ترامیم کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی نے سینیٹر طلحہ محمودکی فاٹا میں وصول کیے جانے والے سپر ٹیکس کو 2019-20تک محدود کرنے کی تجویز کومنظور کر لیا ، اور سینیٹر دلاور خان کی تمباکو کے حوالے سے تجویز کردہ نئے 10 روپے فی کلو ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی منظوری دے دی۔ قائمہ کمیٹی نے پارلیمنٹ ہائوس کے دونوںایوانوںکے ملازمین کے منجمند کردہ سیشن الائونس کوموجودہ بنیادی تنخواہ کے مطابق بحال کرنے کی سفارش بھی کر دی ۔

(جاری ہے)

سینیٹر دلاور خان کی تجاویزکاجائزہ لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ وہ ڈریپ کیلئے ڈبلیو ایچ او سے سریٹفکیٹ حاصل کرے ۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ تمباکو کی فصل سے حکومتی خزانے میں موثر حصہ شامل ہے مگر حکومت کی طرف سے کچھ اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں جن کو کم کرنے سے تمباکو پیدا کرنے والوں میںاضافہ ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے سینیٹر خانزادہ خان کی فنانس بل کے حوالے سے تجاویز کا بھی جائزہ لیتے ہوئے پیڑولیم مصنوعات پر لیوی ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز کو منظور کر لیا۔

قائمہ کمیٹی نے فنانس بل 2018 میں کسٹم ایکٹ اور سیلز ٹیکس ایکٹ میں ایف بی آر کی طرف سے تجاویز کر دہ سفارشات کا بھی جائزہ لیتے ہوئے متعدد ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا ۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز عائشہ رضافاروق ، دلاور خان ، محمد اکرم ، محمد طلحہ محمود ، خانزادہ خان ، محسن عزیز ، میاں محمد عتیق شیخ ، مصدق مسعود ملک کے علاوہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے حکام نے شرکت کی ۔ یاد رہے کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میںمعاونت کیلئے سابق سینیٹر محمد انور بھنڈر اور سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے بھی شرکت کی ۔