سرحدی دفاع کیلئے چین نے جدید ترین آلات نصب کردیئے

جغرافیائی ماحول کے پیش نظر چینی فوج کے یہ آلات ہر موسم میں استعمال کیے جاسکتے ہیں فوجیوں کو سردی سے بچائو کے کمبل ،ٹینٹ اور کیموفلاج سوٹ بھی فراہم کیے گئے ہیں چینی سرحدی فوجیوں نے برف سے ڈھکے درہ خنجراب پر گشت شروع کردیا سرحدوں پر پیشگی خبردار کرنے والاسیٹلائٹ نظام بھی لگادیا گیا ہے،گلوبل ٹائمز کی رپورٹ

جمعرات مئی 23:33

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) چینی سرحدی فوجیوں نے برف سے ڈھکے درہ خنجراب پر گشت کیا ۔جو خودمختار ریجن سنکیانگ کے پامیر کی سطح مرتفع پر واقع ہے۔یہ درہ سطح سمندر سے 5300سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے ۔۔پاکستان اور چین کو ملانے والا اہم پوائنٹ ہے۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق پتہ چلا ہے کے چینی فوج اپنے سرحدی دفاع کو بہتر بنارہی ہے۔

اور وہاںپیشگی خبردار کرنے والے سیٹلائٹ نظام سمیت نئے جدید ترین آلات نصب کررہی ہے۔جو ہر قسم کے ماحول میں سرحدی علاقے کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس میں آلات ،،گاڑیاں اور پیپلز لبریشن آرمی کا مانیٹرنگ نظام بھی شامل ہے۔ جو کسی بھی خطرے سے پیشگی خبردار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ہے۔بلکہ اس کا دفاع بھی کرسکتا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار ممتاز دفاعی مبصر سانگ ژانگ پنگ نے گلوبل ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ چینی فوج نے اپنے آلات کا معیار بہت بہتر کرلیا ہے۔اس سے گشت کرنے والی گاڑیوں اور فوجی دستوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ اور مانیٹرنگ کا بغیر انسان کے نظام قائم کردیا ہے۔ جس کے باعث سرحدی علاقے مسلسل نگرانی اور کنٹرول میں رہیں گے۔

چینی سرحدی علاقے کے جغرافیائی ماحول کے پیش نظر چینی فوج کے یہ آلات ہر موسم میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔یہاں تک کہ یہ زمین ،فضاء اور سمندر میں بھی قابل استعمال ہے چینی فوج نے ایک گشتی کشتی بھی تیار کرلی ہے۔جو دھاتی مواد سے تیار نہیں کی گئی۔یہ گشتی کشتی چالیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے برفانی علاقے میں چل سکتی ہے۔ اور برف اس کے راستے میں کوئی رکائوٹ نہیں بن سکتی۔

ایک اور بھاری سکوٹ گاڑی جسے ’’جنگلی بیل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔میں 17مسلح فوجی بیٹھ سکتے ہیں۔ اور انھیں کسی بھی جگہ جنوب مغربی چینی صوبے یونان کی دفاعی سرحد پر پہنچایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ بائی ڈو سیٹلائٹ جہاز رانی نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔ جو امریکی نظام کے ہم پلہ ہے سکوٹ گاڑی نے واٹر فلٹر ،کچن اور ٹائلٹ بھی موجود ہے۔ اس طرح یہ کسی بھی ماحول میں اپنا کام کرسکتی ہے۔

گلوبل ٹائم کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے۔ کہ یونان کے جنگلات ،سنکیانگ کے صحرائوں اور تبت کی بلندیوں میں بھی چینی فوجی دستے گشت کے لیے دس سال قبل بھی ڈرون استعمال کرتے تھے۔جن کی کارکردگی میں اب پچیس گنہ اضافہ کردیا گیا ہے۔سنکیانگ اور منگولیا کے بعض علاقوں میں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت عام طور پر منفی بیس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے کوک ٹوکے کے علاقے میں فوجیوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے ایک ایسی بوتل تیار کی گئی ہے۔جس میں چوبیس گھنٹے پانی گرم رہتا ہے۔اس علاقے کے فوجیوں کے لیے سردی سے بچائو کے کمبل ،ٹینٹ اور کیموفلاج سوٹ بھی فراہم کیے گئے ہیں۔