ْ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر اور تحر یک انصاف کے رکن آصف محمود کے در میان تلخ کلامی

سپیکر نے آصف محمود کو اسمبلی سٹاف کے بارے ایوان میں بات کر نے سے روک دیا 'جماعت اسلامی نے ہربنس پورہ لاہور کی کچی آبادیوں کو فوری مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ کردیا،کورم کی نشاندہی کے باعث خوراک پر بحث اور سرکاری کاروائی نہ ہو سکی'لیگی خواتین کا پی ٹی آئی رکن کے غیر پارلیمانی رویے کیخلاف احتجاج ' اگر اسمبلی کا سٹاف ہی ہماری بات نہیں سنے گا تو بیوروکریسی تو پھر ہم ویسے ہی لفٹ نہیں کرائے گی'اپوزیشن

جمعرات مئی 23:22

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر اور تحر یک انصاف کے آصف محمود کے در میان تلخ کلامی'سپیکر نے آصف محمود کو اسمبلی سٹاف کے بارے ایوان میں بات کر نے سے روک دیا ''جماعت اسلامی نے ہربنس پورہ لاہور کی کچی آبادیوں کو فوری مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ کردیا،کورم کی نشاندہی کے باعث خوراک پر بحث اور سرکاری کاروائی نہ ہو سکی'لیگی خواتین کا پی ٹی آئی رکن کے غیر پارلیمانی رویے کیخلاف احتجاج ،اپوزیشن رکن نے کہا اگر اسمبلی کا سٹاف ہی ہماری بات نہیں سنے گا تو بیوروکریسی تو پھر ہم ویسے ہی لفٹ نہیں کرائے گی'میاں اسلم کے کہنے پر آصف محمود اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر رانا محمد اقبال کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا ،،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ مال اور زراعت کے متعلق سوالات تھے ۔

(جاری ہے)

وزیر زراعت کی عدم موجودگی پر زراعت کے سوالات موخر کردیے گئے جبکہ محکمہ مال کے جواب صوبائی وزیر چوہدری شیر علی نے دیے۔۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن آصف محمود سیکرٹر ی اسمبلی کی جانب سے جانب سے اپوزیشن اراکین کے ساتھ نارواسلوک رواں رکھنے کیخلاف بات کرنا چاہتے تھے لیکن سپیکر نے ان کو اجازت نہ دی۔

سپیکر رانا اقبال نے کہا تمام ا راکین اسمبلی میرے لئے محترم ہیں لیکن اسمبلی کا سٹاف بھی قابل عزت ہے۔میں ان کیخلاف بات برداشت نہیں کر سکتا۔آپ اس معاملے پر یہاں بات نہ کریں جبکہ سیکرٹری اسمبلی آپ سے پہلے ہی معذرت کر چکے ہیں۔سپیکر نے ان کا مائیک بند کروادیا۔جس پر آصف محمود آگ بگولہ ہو گئے انہوںنے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میں آپ سے ڈکٹیشن لے کر بات نہیں کرو ں گا میں یہاں عوام کے مسائل کی بات کررہا ہوں یہ میرا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔

بعد ازراں میاں اسلم اقبال نے آصف محمود کو سیٹ پر بیٹھا دیا سپیکر نے ان کو اپنے چیمبر میں بلا لیا۔اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا ڈی جی پی آر پنجاب کا ڈپٹی ڈائریکٹر عابد نور غنڈا بنا ہوا ہے ۔اس نے بیس ملازمین کو زبردستی معطل کردیا ہے بعد میں ان ملازمین نے احتجاج کیا اور ان کے سر بھی پھاڑ دیے ہیں اب اس کیخلاف مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے لہذا معطل ملازمین کو فویر بحال کیا جائے اور اس ڈپٹی ڈائریکٹر کیخلاف فوری محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور طاہر خلیل سندھو نے معاملے کی جلد انکوائری کرانے کی یقین دہانی کرادی۔بعد ازراں پی ٹی آئی کی رکن آصف محمود نے کورم کی نشاندہی کر دی سپیکر نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کا کہا لیکن پانچ منٹ بعد بھی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر نے کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس آج صبح نو بجے تک ملتوی کردیا۔