پاکستان اب چیلنجوں سے نکل آیا ہے اور ’’ایمرجنگ پاکستان‘‘ ملک کی مثبت ساکھ بنانے اور ترقی کا ایک تصور تھا، بدقسمتی سے گزشتہ 15 سال سے ہمیں دہشت گردی‘ اقتصادی چیلنجوں اور علاقائی مسائل کا سامنا تھا‘ اللہ کے فضل سے اب ہم ان چیلنجوں سے نکل آئے ہیں اور ایمرجنگ پاکستان ہماری برآمدات کی ترقی کیلئے ہمارا وژن ہے

ْوزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا وزارت تجارت کے زیر اہتمام ایمرجنگ پاکستان کی تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 23:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان اب چیلنجوں سے نکل آیا ہے اور ’’ایمرجنگ پاکستان‘‘ ملک کی مثبت ساکھ بنانے اور ترقی کا ایک تصور تھا، بدقسمتی سے گزشتہ 15 سال سے ہمیں دہشت گردی‘ اقتصادی چیلنجوں اور علاقائی مسائل کا سامنا تھا لیکن اللہ کے فضل سے اب ہم ان چیلنجوں سے نکل آئے ہیں اور ایمرجنگ پاکستان ہماری برآمدات کی ترقی کیلئے ہمارا وژن ہے۔

وہ وزارت تجارت کے زیر اہتمام منعقدہ ایمرجنگ پاکستان کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کی برآمدات بہتری کی سمت گامزن ہیں جو ڈبل ڈیجٹ گروتھ تک پہنچ گئی ہے۔ اقتصادی ترقی کی شرح 6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، بیرونی براہ راست سرمایہ کاری ایک دہائی میں بلند ترین سطح پر ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری انتہائی ضروری انفراسٹرکچر کا موجب ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت انفراسٹرکچر کے دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے، بجلی اور گیس کے شعبوں میں قلت اور انفراسٹرکچر کی کمی اب ماضی کی باتیں ہیں۔ ہم ایک ابھرتے ہوئے پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسائل پر قابو پانے کے بعد اب پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش ملک بن کر ابھر رہا ہے۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور خطے کے روابط کیلئے سہولتیں بھی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد وسطی ایشیا، افغانستان،، مغربی چین اور خطے کے دیگر ملکوں کو سمندر اور عالمی منڈیوں تک بڑے پیمانے پر رسائی فراہم کرنا ہے۔ دہشت گردی، اقتصادی مسائل اور علاقائی مسائل سے موثر طریقے سے نمٹ کر کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ملک کو انتہائی مطلوب بنیادی ڈھانچہ فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار بڑے پیمانے پر انکم ٹیکس اصلاحات کی گئی ہیں جس سے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پیداوار بڑھانے اور روزگار پیدا کرنے کے لئے آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھرپور متنوع، جغرافیائی اور ثقافتی اہمیت کا حامل اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ بات انتہائی قابل عزت ہے کہ وہ سپورٹس کی دنیا میں معیاری مصنوعات مہیا کر رہا ہے۔

پاکستان کا فٹ بال 1982ء سے فٹ بال ورلڈ کپ میں فیفا کے زیر استعمال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال 4 کروڑ فٹ بال بنائے جو کہ ملک کیلئے ایک وقار ہے۔ وزیراعظم نے فارورڈ سپورٹس اور سیالکوٹ کی دیگر سپورٹس انڈسٹریز کو اس کامیابی پر مبارکباد دی جو نہ صرف فٹ بال بلکہ کھیلوں کے دیگر شعبہ میں حاصل کی۔ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے سیالکوٹ کے صنعت کاروں اور عوام کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کا شہر ہر چیز میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، سپورٹس کی اشیاء کے علاوہ اس شہر میں عالمی معیار کا ایئر پورٹ ہے جو مقامی صنعتکاروں نے تعمیر کیا ہے۔

وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ سیالکوٹ کی صنعت کار کمیونٹی پاکستان میں فٹ بال کے کھیل کو سپانسر کرنے کیلئے آگے آئے گی اور اسے ملک میں کرکٹ کے مساوی لائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ فارورڈ سپورٹس نے اس وقت ہی اپنا ہدف حاصل کر لیا تھا جب دنیا نے پاکستانی فٹ بال کو تسلیم کیا اور یہ ورلڈ کپ میں استعمال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مملکت کو چیف ایگزیکٹو آفیسر فارورڈ سپورٹس خواجہ مسعود کو ان کی کامیابیوں پر ستارہ امتیاز عطا کرنے کی سفارش کریں گے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر چیئرمین سپورٹس گڈز ایسوسی ایشن حسنین افتخار چیمہ، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس و انڈسٹری کے نمائندے رانا نصیر احمد اور چیف ایگزیکٹو آفیسر فارورڈ سپورٹس خواجہ مسعود کو میڈلز اور سرٹیفکیٹس بھی دیئے۔ قبل ازیں وزیر تجارت محمد پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ بات انتہائی عزت اور خوشی کی ہے کہ 2018ء کے فیفا ورلڈ کپ فٹ بال میں پاکستان کے فٹ بال استعمال ہوں گے۔

انہوں نے سپورٹس کی صنعت کو مبارکباد دی جنہوں نے عالمی سپورٹس کی صنعت میں پاکستان کی ٹاپ پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ نے پاکستان کو تمام سپورٹس مصنوعات بنانے کیلئے ایک حب کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسی طرح دنیا کو معیاری مصنوعات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔