سپریم کورٹ میں لاہور میں سول ججز کی جانب سے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے نکلوانے سے متعلق کیس کی سماعت‘ سات سول ججز کے خلاف تحقیقات کا حکم

جمعرات مئی 23:40

سپریم کورٹ میں لاہور میں سول ججز کی جانب سے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے لاہور میں سول ججز کی جانب سے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے نکلوانے سے متعلق کیس میں سات سول ججز کے خلاف تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔ جمعرات کوچیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار وکیل نے پیش ہوکرعدالت کوبتایا کہ 2004 ء سے 2007ء تک سات ججز انچارج رہے تھے، اسی دوران خزانے سے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی رقم نکلوالی گئی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے وکیل سے استفسار کیا کہ میاں صاحب، اتنی بڑی رقم کیسے سرکاری خزانے سے نکل گئی۔ توفاضل وکیل نے کہا کہ یہی سچ ہے تاہم میرا کہنایہ ہے کہ ہمارا اپنا گھر ٹھیک کرنے کیلئے یہ فٹ کیس ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو معاملہ بھجوا دیتے ہیں، اگر ججز نے رقم خورد برد کرلی ہے تو ہائیکورٹ اس کی تحقیقات کرے گی۔

(جاری ہے)

بعد ازاں چیف جسٹس نے ہائیکورٹ کو تحقیقات کر کے ذمہ دار ججوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ درخواست گراز نبیلہ سلیم کو سرکاری خزانے سے 1 کڑوڑ چالیس لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے ، یادرہے کہ درخواست گزار نے سیکورٹی کی مد میں 1 کروڑ 40 لاکھ جمع کرائے تھے، فیصلہ حق میں آنے پر ان کو بتایا گیا کہ خزانے سے 1 کروڑ 30 لاکھ غائب ہیں۔ جس کی روشنی میں سیشن جج لاہور نے انکوائر ی میں سات ججوں کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی تھی۔