سوڈان کے 1500 سپاہی یمن کے لیے قائم عرب اتحادی فوج میں شامل

یمن میں فوجی تعاون مذہبی ذمہ داری ہے،سوڈانی صدرعمر البشیرکاتقریب سے خطاب

جمعہ مئی 12:26

خرطوم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سوڈان کے صدر عمر البشیر نے واضح کیا ہے کہ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم کردہ عرب فوجی اتحاد میں ان کی فوج کی موجودگی سوڈان کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر البشیر نے کہا کہ لوگ استفسار کرتے ہیں کہ سوڈان نے اپنی فوج یمن میں کیوں تعینات کی ہے۔

میں بتاتا ہوں کہ یمن کے لیے قائم عرب اتحاد میں ہماری شمولیت ہماری دینی اقدار کا اور اخلاقی میراث کا تقاضا ہے۔ ہم دہشت گردی اور جارحیت کے خلاف جدو جہد کررہے ہیں۔ ہم اس وقت تک عرب اتحاد کا حصہ رہیں گے جب تک ہمارے مقاصد پورے نہیں ہوجاتے۔خیال رہے کہ یمن میں سوڈان کے تناھز بریگیڈ کے پندرہ سو فوجی افسر اور سپاہی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

تمام عرب ممالک نے سوڈان کی یمن جنگ میں شمولیت کو سراہا ہے جب کہ خود سوڈانی فوج بھی حوثیوں کے خلاف لڑنے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کررہی ہے۔

سوڈانی صدر محمد عمر البشیر بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ یمن سے فوج اس وقت تک واپس نہیں بلائیں گے جب تک یمن میں حکومت کی رٹ بحال اور سعودی عرب کو حوثیوں کی طرف سے لاحق خطرات کم نہیں ہوجاتے۔صدر البشیر کا کہنا تھا کہ یمن میں ہماری جنگ حرمین کے دفاع کی جنگ ہے۔ ہم اجرتی قاتل نہیں بلکہ حرمین کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں۔