اسرائیلی عدالت کا فلسطینی شاعرہ پر نفرت کو ہوا دینے کا الزام

طاطور اپنی شاعری سے فلسطینی نوجوانوں کو اکسا رہی ہے،سماعت ملتویٰ،اگلی پیشی پر سزاسنائے جانے کا امکان

جمعہ مئی 12:58

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے فلسطینی شاعرہ اور ادیبہ دارین طاطور پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف نفرت پر اکسانے کا الزام عاید کیا ہے اورکہاہے کہ طاطور اپنی شاعری کے ذریعے سوشل میڈیا پر فلسطینی نوجوانوں کو اسرائیل کے خلاف اکسا رہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی عدالت کی طرف سے یہ الزام طاطور کے اکتوبر 2015ء کو شوشل میڈیا پر پوسٹ منظوم کلام کی بنیاد پر عاید کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس میں انہیں ایک ویڈیو فوٹیج میںقاوم یا شعبی قاوم(میری قوم مزاحمت جاری رکھیی) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس نظم کے ساتھ فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔فلسطینی شاعرہ کو اسرائیلی پولیس نے 11 اکتوبر 2015ء کو شمالی فلسطین الناصرہ شہر کے رینیہ علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ نومبر میں ان پر اسرائیل کے خلاف تشدد پر اکسانے اور ایک دہشت گرد گروپ کی حمایت کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ ان کے خلاف جاری مقدمہ کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی گئی ہے۔ آئندہ کی تاریخ میں عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔