کراچی میں بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین الاٹ کرنے، زمین کے تبادلے کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مئی 13:28

کراچی میں بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین الاٹ کرنے، زمین کے تبادلے کو غیر ..
 کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 مئی 2018ء) : کراچی میں بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین الاٹ کرنے، زمین کے تبادلے کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو کراچی میں مزید پلاٹ نہ بیچنے کی ہدایت بھی کر دی البتہ تعمیری کام کو نہیں روکا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ نیب کو بھیجنے اور ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے سندھ حکومت کو بحریہ ٹاؤن کے ساتھ نئی شرائط پر معاہدہ کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ نیب کو ہدایات کی گئی ہیں کہ آئندہ تین ماہ میں اس غیر قانونی معاہدے کی تمام تر تفصیلات اکٹھی کرے، اور انکوائری مکمل کر کے ریفرنسز دائر کرے۔ جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ایڈشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کو کہا گیا ہے کہ وہ ایک اسپیشل اکاؤنٹ کھولیں جس میں الاٹیز سے ریکوری کر کے پیسے جمع کیے جائیں، سندھ حکومت کے فیصلے تک الاٹی اس اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔

سندھ حکومت اور بحریہ ٹاؤن کے مابین مستقبل میں نئی شرائط کے ساتھ اگر کوئی نیا معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا تو پھر ان رقوم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ سندھ حکومت نئی شرائط کے ساتھ زین بحریہ ٹاؤن کو دینے یا دینے کی مجاز ہو گی۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی نگرانی کے لیے عملدرآمد بنچ قائم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ اے کو دی گئی زمین پر بھی چیف جسٹس سے از خود نوٹس لے کر معاملے کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔