سپریم کورٹ کا صحافیوں پر پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کا حکم

شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، ریلی کے لیے این او سی لینا قانونی تقاضا ہے ،ْآئی جی اسلام آباد کیا صحافیوں نے پتھر پھینکے کوئی گملا توڑا ،ْریڈ زون میں کس قانون کے تحت احتجاج کی اجازت نہیں ریڈ زون میں کس کو احتجاج کی اجازت ہی چیف جسٹس محکمہ پولیس صحافیوں کی عزت کرتا ہے، پولیس کی جانب سے بھی واقعے کی انکوائری کروائی جائیگی ،ْ آئی جی اسلام آباد کا بیان

جمعہ مئی 14:36

سپریم کورٹ کا صحافیوں پر پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کا حکم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے گزشتہ روز صحافیوں پر پولیس تشدد کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیدیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صحافت کے عالمی دن پر اسلام آباد میں صحافیوں نے ریلی نکالی جسے پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے سے روک دیا۔۔پولیس نے صحافیوں پر لاٹھی چارج کیا ،ْ اس دوران خاتون صحافی سے بھی بدتمیزی کی گئی جس پر چیف جسٹس نے واقعے کا نوٹس لیا تھا۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں صحافیوں پر تشدد کے معاملے کی سماعت ہوئی جس کے سلسلے میں آئی جی اسلام آباد سلطان اعظم تیموری عدالت میں پیش ہوئے۔آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، ریلی کے لیے این او سی لینا قانونی تقاضا ہے، پولیس نے صحافیوں کوریڈ زون میں جانے سے منع کیا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ کیا صحافیوں نے پتھر پھینکے کوئی گملا توڑا اس پر آئی جی نے بتایا کہ ڈی چوک پر صحافیوں نے پولیس حصار توڑنے کی کوشش کی، محکمہ پولیس صحافیوں کی عزت کرتا ہے، پولیس کی جانب سے بھی واقعے کی انکوائری کروائی جائے گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پولیس کا موقف یہ ہوگا کہ ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں، صحافیوں کے پاس کوئی لاٹھی یا غلیل تونہیں تھی ریڈ زون میں کس قانون کے تحت احتجاج کی اجازت نہیں ریڈ زون میں کس کو احتجاج کی اجازت ہی عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد دفعہ 144 کے تسلسل کے ساتھ نفاذ کی وضاحت دیں۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ صحافیوں کا احتجاج پرامن تھا ،ْپرامن احتجاج یا خواتین پر ہاتھ اٹھانا مناسب نہیں ہے ،ْبہنوں کا احترام معلوم نہیں کدھر چلا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سیشن جج سہیل ناصر کو معاملے کی انکوائری سونپ دی۔۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تمام فریقین انکوائری کمیشن کے روبرو پیش ہوں اور سیشن جج انکوائری کرکے 10 روز میں رپورٹ دیں۔