سیاسی رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کا خوف،

سیاسی جماعتوں نے انتخابی شیڈول سے قبل اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مئی 14:34

سیاسی رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کا خوف،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 مئی 2018ء) : سیاسی رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کے خوف کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات کے شیڈول کے اعلان تک اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن ، ق لیگ ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے مختلف حلقوں میں دو دو اُمیدوار سامنے آنے پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کو اپنے اُمیدواروں کی ناراضگی کا خوف بھی ہے۔ ن لیگ کے 103 اراکین اسمبلی حکومت ختم ہونے پر اپنی سیاسی وابستگی چھوڑ سکتے ہیں، ن لیگ کی قیادت کو پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 103 رہنما حکومت ختم ہوتے ہی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اور حکومت کی مدت مکمل ہوتے ہی پارٹی کو الوداع کہہ دیں گے ۔

(جاری ہے)

ان رہنماؤں میں ممبر قومی اسمبلی اور ممبر صوبائی اسمبلی شامل ہیں، ان میں سے بہت سے اراکین اسمبلی سیاسی حریف جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔

پنجاب سمیت ملک بھر میں نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے لاہور ، راولپنڈی ، اٹک سمیت دیگر وہ شہر جو مسلم لیگ ن کے گڑھ سمجھے جاتے تھے ان میں بھی گروپنگ پیدا ہو گئی ہے۔ ن لیگ کو بآور کروا دیا گیا ہے کہ اگر کسی ایک رکن کو ٹکٹ دیا گیا تو دوسرا رکن اسمبلی ناراض ہو کر پارٹی چھوڑ سکتا ہے ۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا پیپلز پارٹی کو بھی کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کو بھی خیبر پختونخواہ کے 13 صوبائی حلقوں میں اسی صورتحال کا سامنا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے تاحال اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا۔ خیال رہے کہ عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ جاری ہے۔ مختلف سیاسی رہنما حکمران جماعت کو چھوڑ کر دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہو رہے ہیں۔